بلاول بھٹو کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، کشمیر کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ سے اسلام آباد میں اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مولانا کو حالیہ صورتِ حال پر اعتماد میں لیا گیا، دورانِ ملاقات کشمیر میں حکومت سازی کے عمل میں مشاورت کی۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات ہوئی۔ بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان سے اسلام آباد میں اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مولانا کو حالیہ صورتِ حال پر اعتماد میں لیا گیا، دورانِ ملاقات کشمیر میں حکومت سازی کے عمل میں مشاورت کی۔ ذرائع کے مطابق جس پر سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کو حکومت سازی کے حوالے سے مشورے دیے، دوران گفتگو افغانستان اور مسئلہ فلسطین بھی زیر غور آیا اور افغانستان کی صورتحال کو افہام و تفہیم سے حل کرنے پر پھر زور دیا۔
مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو زرداری میں پارلیمانی اُمور خصوصاً قومی اسمبلی، سینیٹ میں ورکنگ ریلیشن شپ کا بھی خصوصی طور پر تذکرہ کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ پارلیمانی جمہوریت میں سب سے اہم کردار پارلیمنٹ کا ہے جو ادا نہیں ہورہا ہے۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ کی جانب سے افغانستان سے متعلق جو تجاویز اور خدشات ہیں وہ صدر مملکت تک پہنچاؤں گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان بلاول بھٹو زرداری
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔