Jasarat News:
2026-07-24@01:42:32 GMT

بھارت ظالم ،دہشت گردی اور انسانیت کاقاتل ہے،علما مشائخ

اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251028-2-9
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)بھارت ظالم، دہشت گرد اور انسانیت کا قاتل ہے، 27 اکتوبر کو بھارتی تسلط کے تحت کشمیر کے سیاہ ترین دور کا آغاز ہوا،کشمیری عوام بھارت کا حصہ نہیں بننا چاہتے، حق خودارادیت دیا جائے،بھارت کسی بھی معاہدے اور وعدے کی پاسداری نہیں کرتا، بھارت خطے کے امن کیلئے شدید خطرہ ہے،بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرے،کشمیریوں کی شناخت خطرے میں ہے، مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر خطے میں پائیدار امن و ترقی ممکن نہیں،مودی حکومت منظم طریقے سے مقبوضہ کشمیر میں آباد کاری کی بنیاد رکھ رہی ہے، کشمیریوں کو دبانے کیلئے بھارتی عدلیہ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے،عالمی برداری مسئلہ کشمیر کے حل میں کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام کرے، بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی زمین اور جائیداد کے مالکانہ حقوق کا تحفظ ختم کردیا، ان الفاظ کا اعادہ مقررین نے ملک بھر کے علماء مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن أف پاکستان کے زیر اہتمام غیر قانونی بھارتی قبضے کیخلاف 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے موقع پر ’’اقوام متحدہ اور جموں و کشمیر تنازعہ‘‘ کے موضوع پرمنعقدہ سیمینار سے خطاب میں کیا،سیمینار میں مقررین نے جموں و کشمیر کے تنازعہ کی پیچیدگی اور ان چیلنجز کو اجاگر کیا جو اقوام متحدہ کو اپنے مقاصد اور اصولوں کو آگے بڑھانے کیساتھ ساتھ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد اور مظلوم عوام کیلئے انصاف کو یقینی بنانے میں درپیش ہیں، سیمینار کی صدرات ملک بھر کے علما مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن أف پاکستان کے سربراہ سفیر امن پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی مرشدی سجادہ نشیں آستانہ عالیہ بھیج پیر جٹا نے کی، دیگر مقررین میں پرو فیسر ڈاکٹرجلال الدین نوری، پیر سید محمد خرم شاہ جیلانی،پروفیسر ڈاکٹر علامہ سعید سہروردی،پروفیسر ڈاکٹرمہربان نقشبندی ایڈوکیٹ سپریم کورٹ،پروفیسر ڈاکٹر علامہ ضیاء الدین،پر و فیسر علامہ ڈاکٹر محمود عالم خرم آسی جہانگیری،و دیگر شریک تھے۔ مقررین نے کہا کہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں تجویز کردہ تنازعے کے حل کو عالمی برادری کیساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کی حمایت حاصل تھی لیکن بھارت بعد میں اپنے وعدوں سے مکر گیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہے،بھارت نے 27اکتوبر 1947ء کو اپنی فوجیں کشمیر میں اتارکر غیر قانونی قبضہ کرلیا، اس دن کے بعد سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ایسا دور شروع ہوا کہ کشمیریوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے ہی یکسر محروم کردیا گیا۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کشمیر کے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار