جنرل ساحر کی بنگلہ دیشی آرمی چیف سے ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کے سرکاری دورے کے دوران ڈھاکہ کے آرمی ہیڈ کوارٹرز میں بنگلہ دیش کی فوج کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل وقار الزمان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو وسعت دینے کے مثبت انداز کو سراہا اور عسکری وفود کے تبادلوں کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ابھرتے ہوئے عالمی اور علاقائی سلامتی کے ماحول پر تبادلہ خیال کیا اور پاکستان اور بنگلہ دیش کی مسلح افواج کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ بات چیت میں تربیت، مشترکہ مشقوں اور انسداد دہشت گردی میں تجربات کے اشتراک سمیت شعبوں کا احاطہ کیا گیا۔ تفرقہ انگیز معلومات پھیلانے کی کوششوں سے پیدا ہونے والے چیلنجز پر تشویش کا اظہار کیا۔ فریقین نے ان خطرات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے تعاون اور مشترکہ کوششوں کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔