حل طلب تنازعہ کشمیر کی وجہ سے خطے پر جوہری جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، سردار مسعود
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
ذرائع کے مطابق سردار مسعود خان نے نیشنل پریس کلب میں مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط کے خلاف یوم سیاہ کے سلسلے میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر صرف سیاسی نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر صرف سیاسی نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔ ذرائع کے مطابق سردار مسعود خان نے نیشنل پریس کلب میں مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط کے خلاف یوم سیاہ کے سلسلے میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیرینہ حل طلب تنازعہ کشمیر کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے خطے پر جوہری جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی تسلط کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے معرکہ حق کے دوران بھارت پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اپنے عوام کی حفاظت کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ27 اکتوبر کو ڈوگرہ راجائوں اور بھارت نے کشمیر پر جارحیت کی تھی، جموں میں 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور یہ سلسلہ آج بھی مقبوضہ علاقے میں جاری ہے۔
برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ نذیر احمد نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر کا مسئلہ دنیا کے سامنے لانے میں اہم کردار ہے، ان کی وجہ سے دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بات ہو رہی ہے۔ سید نذیر گیلانی نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ نہایت سادہ ہے، 27 اکتوبر 1947ء انسانی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے جب بھارتی افواج نے سازش اور طاقت کے بل پر جموں و کشمیر میں داخل ہو کر ایک آزاد ریاست پر قبضہ کر لیا تھا۔ سیمینار میں سابق وزیر برائے آزاد ریاست جموں و کشمیر چوہدری ریاض محمود، شبیر احمد شاہ، راجہ روف مشعل مسعود اور راجہ سکندر خان اور دیگر افراد نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی وجہ سے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔