تافتان بارڈر پر میتھاڈون اسمگلنگ کی بڑی کوشش ناکام
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
کسٹمز حکام نے تافتان بارڈر پر کارروائی کرتے ہوئے خطرناک نشہ آور دوامیتھاڈون کی اسمگلنگ کی ایک بڑی کوشش ناکام بنا دی۔
ایف بی آر کے مطابق، ایک کنٹینر میں موجود620 کارٹنوں سے تقریباً1 کروڑ 11 لاکھ 60 ہزار گولیاں برآمد ہوئیں جن کی مالیت44 کروڑ 60 لاکھ روپے کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔
ترجمان ایف بی آر کا کہنا ہے کہ یہ ممنوعہ دوا تافتان کے ایک درآمدکنندہ کی ملکیت ہے جو پہلے بھیغلط بیانی اور کسٹمز فراڈ کے مقدمات میں ملوث رہا ہے۔ حکام کے مطابق، اس کھیپ کو ایکنجی گاڑی میں منتقل کرنے کی کوشش کرنے والے شخص کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا گیا۔
ایف بی آر کے ترجمان نے واضح کیا کہ میتھاڈون جیسی دوا کی درآمد صرفڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی سفارش اوروزارتِ نارکوٹکس کنٹرول کے جاری کردہ این او سی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
کسٹمز حکام نے واقعے پرکنٹرول آف نارکاٹک سبسٹنسز ایکٹ 1997 کی متعلقہ دفعات کے تحتایف آئی آر درج کر لی ہے، جبکہ دیگر ملوث افراد کی تلاش اور گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔