بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کا اتفاقِ رائے کمیشن کی سفارشات پر غم و غصہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یعنی بی این پی نے اتفاقِ رائے کمیشن کی جانب سے جولائی نیشنل چارٹر پر عمل درآمد سے متعلق سفارشات کو مسترد کرتے ہوئے شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ کمیشن کی تجاویز جماعتِ اسلامی اور نیشنل سٹیزنز پارٹی یعنی این سی پی کے مطالبات کی عکاسی کرتی ہیں، جبکہ بی این پی کے مؤقف کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین کا بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے لیے بڑی مبصر ٹیم بھیجنے کا اعلان
منگل کی شب پارٹی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں بی این پی رہنماؤں نے کہا کہ وہ کمیشن کی سفارشات پر ’حیران اور مشتعل‘ ہیں۔
The consensus commission deceived the people and the political parties by excluding "the notes of dissent".
-Mirza Fakhrul Islam Alamgir
Secretary General, BNP
29 October 2025
#ConsensusCommission #MirzaFakhrul #BNP #JulyCharter #BangladeshPolitics pic.twitter.com/a0lw7X68pJ
— Bangladesh Nationalist Party-BNP (@bdbnp78) October 29, 2025
ان کا کہنا تھا کہ کمیشن نے وعدے کے باوجود بی این پی کا ’اختلافی نوٹ‘ حتمی رپورٹ میں شامل نہیں کیا۔
اجلاس کی صدارت قائم مقام چیئرمین طارق رحمان نے برطانیہ سے آن لائن شرکت کرتے ہوئے کی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کا بھارت کے ساتھ سرحد پر سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے نئی بٹالینز تشکیل دینے کا فیصلہ
کمیشن کی سفارشات کے مطابق، آئندہ پارلیمنٹ اپنی مدت کے ابتدائی 270 دن ’آئینی اصلاحاتی کونسل‘ کے طور پر کام کرے گی اور اس دوران عوامی ریفرنڈم کے ذریعے منظور شدہ تجاویز کو آئین کا حصہ بنایا جائے گا۔
اگر 270 دن میں اصلاحات مکمل نہ ہو سکیں، تو تمام منظور شدہ تجاویز خود بخود آئین میں شامل ہو جائیں گی۔
بی این پی رہنماؤں نے اس شق کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، ان کے مطابق کمیشن کی تجاویز چند جماعتوں کے ایجنڈے کو قوم پر مسلط کرنے کے مترادف ہیں۔
ایک سینیئر رہنما نے اسے پاکستان کے سابق صدر یحییٰ خان کے 1970 کے لیگل فریم ورک آرڈر اور ایوب خان کے 1959ء کے بیسک ڈیموکریسی نظام سے تشبیہ دی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت دینے کا مطالبہ
بی این پی کے مطابق کمیشن کی سفارشات عوام اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ دھوکا ہیں، کیونکہ یہ اتحاد پیدا کرنے کے بجائے مزید تقسیم کو ہوا دے رہی ہیں۔
رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ کمیشن، حکومت اور چند سیاسی جماعتیں آئندہ فروری 2026 کے عام انتخابات میں تاخیر کرنے کے لیے باہمی تعاون کر رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اتفاقِ رائے کمیشن بنگلہ دیش بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بی این پی جماعت اسلامی جولائی نیشنل چارٹر سفارشات طارق رحمان نیشنل سٹیزنز پارٹی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اتفاق رائے کمیشن بنگلہ دیش بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بی این پی جماعت اسلامی جولائی نیشنل چارٹر سفارشات نیشنل سٹیزنز پارٹی کمیشن کی سفارشات بنگلہ دیش بی این پی کے لیے
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔