وزیراعلی کے پی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی، علامتی دھرنے کے بعد واپس روانہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
وزیراعلی کے پی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی، علامتی دھرنے کے بعد واپس روانہ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 October, 2025 سب نیوز
راولپنڈی (آئی پی ایس )وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے تھے، تاہم انہیں ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی۔ سہیل آفریدی نے داہگل ناکے پر علامتی دھرنا دیا، جس کے بعد وہ واپس روانہ ہوگئے۔وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات کی اجازت حاصل کرنے کے بعد اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم پولیس نے انہیں داہگل ناکے پر آگے جانے سے روک دیا۔
پولیس کے اس اقدام پر وزیراعلی سہیل آفریدی وہیں سڑک پر بیٹھ گئے اور احتجاج شروع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عدالتی اجازت نامہ رکھتے ہیں اور اپنے قائد سے ملاقات ان کا قانونی حق ہے۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلی کے پی کا کہنا تھا کہ مجھے عدالتی احکامات کے باوجود اپنے لیڈر سے ملنے نہیں دیا گیا۔اپنے لیڈر سے رہنمائی لینے کے لیے ملاقات کرنا چاہتا تھا، اب میں عوام کی عدالت میں جاوں گا۔انہوں نے کہا کہ میرا لائحہ عمل وہی ہے جو بانی پی ٹی آئی کا لائحہ عمل ہے، ہم عزت اور وقار کے ساتھ افغان بھائیوں کو واپس بھیجیں گے۔
اس موقع پر انہوں نے صحافیوں کے کچھ سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے اڈیالہ روڈ پر دھرنا دیا ہے، کیا کہیں گے؟ سہیل آفریدی نے جواب دیا کچھ تو کہیں گے صبر رکھیں۔وزیراعلی خیبرپختونخوا نے صوبے میں حکومت اور کابینہ سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب نہیں دیا اور مسکراتے رہے۔سہیل آفریدی تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ داہگل ناکے پر موجود رہنے کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیے بغیر ہی واپس روانہ ہوگئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دیدی وفاقی کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دیدی اسلام آباد پولیس کے ایس پی عدیل اکبر نے مبینہ خودکشی کرلی چیئرمین سی ڈی اے سے یانگو سروسز کی کنٹری ہیڈ مرال شریف کی قیادت میں وفد کی ملاقات سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عمران خان سے ملاقاتوں کیلئے سلمان اکرم کی فہرست پر عمل درآمد کا حکم نیب کی سال 2025کی تیسری سہ ماہی میں 11کھرب روپے سے زائد کی بازیابی ائیر چیف مارشل کا رومانیہ کا سرکاری دورہ، دفاعی تعاون کے فروغ پر اتفاقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عمران خان سے ملاقات ملاقات کی اجازت سے ملاقات کی سہیل آفریدی واپس روانہ کے بعد
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز