براہ راست ٹی وی نشریات کے دوران فوجیوں کا اسٹوڈیو میں داخل ہوکر مارشل لا لگانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
مغربی افریقا کے ملک بنین میں ایک مبینہ فوجی بغاوت سامنے آئی ہے جہاں مسلح افواج کے ایک گروہ نے سرکاری ٹیلی وژن پر براہِ راست خطاب کرتے ہوئے حکومت تحلیل کرنے اور صدر پٹریس تالون کو برطرف کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خود کو ‘ملٹری کمیٹی فار ریفاؤنڈیشن ‘کہنے والے فوجیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ تالون اب ملک کے صدر نہیں رہے۔
یہ بھی پڑھیے: جنوبی کوریا میں مارشل لا لگانے والے صدر کیخلاف مواخذے کی تحریک کامیاب
فوجی کمیٹی نے اعلان کیا کہ ملک کی تمام سرحدیں بند کر دی گئی ہیں جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں بھی معطل کر دی گئی ہیں۔
فرانسیسی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا ہے کہ صدر کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب کیمپ گیژو میں فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تاہم ابھی تک صورتحال کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔
صدر پٹریس تالون کی موجودہ جگہ کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ وہ 2016 سے ملک کے صدر کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ماہ بنین کی پارلیمنٹ نے صدارتی مدتِ ملازمت 5 سے بڑھا کر سات سال کر دی تھی، البتہ مدت کی زیادہ سے زیادہ حد 2 ہی رکھی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افریقا بغاوت بینن مارشل لا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افریقا بغاوت مارشل لا
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔