قبضہ مافیا نے ہاکس بے ہٹ پر نظریں گاڑ لیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
ڈی سی کیماڑی کی جانب سے ہٹ مالکان کو پریشان کرنے کی کوششیں
ہٹ کی دیواریں توڑ کر اصل مالکان کو بے دخل کرنے کی سازشیں
ہاکس بے کے تفریحی مقام پر قائم ہٹ پر قبضہ مافیا نے نظریں گاڑ لیں۔ اطلاعات کے مطابق پچیس تیس سال سے الاٹمنٹ رکھنے والے ہٹ مالکان کو غیر متعلقہ وجوہات کی آڑ میں ڈپٹی کمشنر کیماڑی کی جانب سے مسلسل نوٹسز دیے جا ر ہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق ڈی سی کیماڑی راجہ طارق حسین چانڈیو کی جانب سے ہٹ مالکان کو مسلسل تنگ کرنے کی شکایتیں بڑھ رہی ہیں یہاں تک کہ بغیر کسی نوٹس کے بھی ہٹوں کی دیواریں توڑنے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔واضح رہے کہ مذکورہ ہٹ پر قبضے کے لیے ایک مافیا سرگرم ہے جس سے انتظامیہ کی تال میل موجود ہے۔ ہٹ مالکان کو خدشہ ہے کہ ان کی دیواریں توڑنے کے پس پردہ دراصل اسی مافیا سے یہاں قبضہ کروانا ہے۔نمائندہ جرأت سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ہٹ مالک نے کہا کہ وہ کسی بھی ری الاٹمنٹ یا قانونی تقاضے کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے برعکس انتظامیہ کا رویہ یہ ہے کہ وہ الاٹمنٹ کے حامل ہٹ کی دیواریں تو گرا رہے ہیں مگر دوسری طرف قبضہ مافیا کی جانب سے بغیر الاٹمنٹ بنائے گئے ہٹ کو نہ کوئی نوٹس دیے جا رہے ہیں اور نہ ہی ان کی دیواریں توڑی جا رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کی دیواریں کی جانب سے ہے ہیں
پڑھیں:
پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
اپر دیر:سیاحتی مقام کمراٹ میں برف پگھلنے سے دریا کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہونے لگا جو کسی بھی وقت خطرناک صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔
سیاحتی مقام وادی کمراٹ کی بائی پاس سڑک دریا کے پانی میں بہہ گئی تاہم گاڑیوں کی آمدورفت جاری ہے۔
وادی کمراٹ بائی پاس روڈ پر پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے موٹر سائیکل سوار بہہ گیا تاہم مقامی افراد اور امدادی ٹیموں نے موٹر سائیکل سوار کو بچایا لیا جبکہ موٹر سائیکل پانی میں لاپتا ہوگئی۔
دوسری جانب، پی ڈی ایم اے کی جانب سے گزشتہ روز ہونے والی تیز ہواؤں، آندھی اور بارش کے باعث گھروں کی دیواریں اور چھتیں گرنے سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی گئی۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز آندھی اور بارش کے باعث آسمانی بجلی اور گھروں کی دیواریں گرنے سے اب تک 2 افراد جاں بحق جبکہ 31 افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں دو مرد جبکہ زخمیوں میں 7 خواتین، 16 مرد اور 8 بچے شامل ہیں۔
حادثات صوبے کے مختلف اضلاع پشاور، چارسدہ، نوشہرہ اور بنوں میں پیش آئے۔ پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور آپس میں قریبی رابطہ میں ہیں۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد از جلد ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ بارش اور تیز ہواؤں کا موجودہ سلسلہ 5 جون تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے عوام کسی بھی معلومات، آگاہی یا کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع 1700 پر دیں۔