میٹرک بورڈ کراچی کی غیر پیشہ ورانہ اور دہائیوں پرانی پالیسیوں نے طلبہ کو ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی غیر پیشہ ورانہ اور دہائیوں پرانی پالیسیوں نے کراچی کے طلبہ کو ٹراما Trauma یا بدترین ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا۔
میٹرک بورڈ کراچی کی جانب سے نویں جماعت سائنس اور جنرل گروپ کا نتیجہ تو جاری کردیا گیا لیکن یہ نتیجہ حاصل کردہ مارکس کے بغیر جاری ہوا ہے۔
21 ویں صدی میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے تیز ترین دور میں کراچی کے 1 لاکھ 75 ہزار طلبہ اب تک یہ نہیں جانتے کہ نویں جماعت میں ان کے حاصل کردہ کل مارکس کتنے ہیں انھیں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ وہ کتنے پرچوں میں پاس اور کتنے میں فیل ہیں جس کے سبب میٹرک سائنس اور جنرل گروپ کے یہ لاکھوں طلبہ حاصل کردہ مارکس کے ساتھ اپنی پاسنگ کی شرح اور مکمل نتیجہ جاننے سے قاصر ہیں اور نتائج کے اجراء کے کم از کم دو ہفتے تک طلبہ کو اپنے مکمل نتائج تک رسائی نہیں مل پائے گی اور اس ضمن میں طلبہ کو مارک شیٹ کے اجراء کا انتظار کرنا ہوگا۔
جبکہ میٹرک بورڈ ایک جانب مستقبل کے لیے ای مارکنگ اور مینول کے بجائے کمپیوٹرائزڈ چیکنگ کے دعوے کرتا نظر آتا یے نتیجہ ایسے وقت میں جاری ہوا ہے۔
جبکہ کراچی میں بورڈ میں ڈیجیٹلائزیشن، ای مارکنگ اور نئے گریڈنگ سسٹم پر عین اسی روز چیئرمین بورڈز کا ایک اجلاس ہوا ہے۔
جس میں چیئرمین میٹرک بورڈ غلام حسین سہو خود بھی شریک ہوئے ہیں وہ لوگ جو ڈیجیٹلائزیشن اور ای مارکنگ کے اطلاق کے طریقہ کار پر عمل درآمد کی پالیسیاں بنارہے ہیں وہی اپنے طلبہ کو امتحان میں لیے گئے مارکس بتانے سے قاصر ہیں۔
اور طلبہ کو ان کے نتائج میں (حاصل کردہ مارکس) تک جاری کرنے کا انتظام نہیں کرسکا ہے اس سلسلے میں کوئی پلاننگ ہی نہیں کی گئی بتایا جارہا ہے آئی ٹی منیجر محمد عرفان نتائج کے اجراء کے ساتھ ہی آئی بی سی سی کی ایک ورکشاپ میں چیئرمین بورڈ کے ہمراہ اسلام آباد روانہ ہوگئے ہیں۔
سائیں داد نامی ایک آئی ٹی اینالسٹ کو بورڈ سے منسلک کیا گیا ہے تاہم انھیں بھی بظاہر بے اختیار رکھا گیا ہے ناظم امتحانات جو محض تین ماہ کے لیے آئے ہیں ان کی جانب سے نویں جماعت کے طلبہ کو مکمل یا کم از کم حاصل کردہ مارکس سے آگاہ کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی ترتیب نہیں دی گئی بلکہ ماضی کی دقیانوسی روایتوں کے مطابق نتائج جاری کردیے گئے جس میں گزٹ کے اندر صرف پرچوں میں پاس اور فیل کی تفصیلات ہیں۔
"ایکسپریس " نے اس سلسلے میں ناظم امتحانات میٹرک بورڈ حمزہ تگڑ سے رابطہ کیا تو "ان کا کہنا تھا کہ ہم تمام نقائص کو قبول کرتے ہیں مجھے آئے ہوئے کچھ یی عرصہ ہوا ہے آئی ٹی کے عملے کو بلاکر ان کی بھی باز پرس کی ہے ہماری کوشش ہے کہ ایک ہفتے میں طلبہ کو ان کے مارکس معلوم ہوسکیں"
علاوہ ازیں مسابقت کے اس دور میں اگر کیمبرج کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو "او اور اے لیول" میں طلبہ کو ان کے گریڈ اور حاصل کردہ مارکس کے حوالے سے اس قدر معلومات ابتداء میں ہی دے دی جاتی یے کہ ان کے کتنے سبجیکٹ میں اے، گریڈ ہیں ، کتنے میں بی اور دیگر گریڈز ہیں
علاوہ ازیں "ایکسپریس " نے آل پرائیویٹ اسکول/کالج ایسوسی ایشن کے چیئرمین حیدر علی سے اس سلسلے میں ان کی رائے جاننی چاہی تو ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں جب سال اول کے نتائج جاری ہوتے ہیں تو ویب سائیٹ /پورٹل پر ایک ابتدائی یا پروویژنل مارک شیٹ تک جاری ہوجاتی ہے جس سے نا صرف حاصل کردہ کل مارکس بلکہ متعلقہ مضامین کے مارکس تک طالب معلوم کرسکتا ہے جبکہ ہمارے یہاں طالب علم کل مارکس تک نہیں جان پاتا تاہم اس سلسلے میں بورڈ کی justification ناقابل فہم ہے۔
دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ میٹرک بورڈ جو نتیجہ جاری ہوا ہے اس میں نویں سائنس گروپ ریاضی کی امتحانی کاپیاں الیکٹرونک چیکنگ کے بجائے روایتہ دستی طریقہ کار مینول اسسمنٹ کے ساتھ جانچی گئی ہیں۔
جبکہ اس پرچے کی ای مارکنگ کے لیے لگ بھگ 50 روپے یا اس سے زائد کی فی امتحانی کاپی چھپوائی گئی تھی لیکن بورڈ چیکنگ کے لیے لاجسٹک کا انتظام نہیں کرسکا نہ ہی چیکنگ کے نظام کو آئوٹ سورس کیا جاسکا لہزا آخر کا ای مارکنگ کی کاپیاں مینول چیکنگ کے ساتھ نتیجہ دیا گیا اور کاپی کی چھپائی میں کروڑوں روپے کی خطیر رقم بھی ضائع ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اس سلسلے میں میٹرک بورڈ چیکنگ کے طلبہ کو کے ساتھ کے لیے ہوا ہے
پڑھیں:
ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔
ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟
یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔
آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔
’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔
ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔
بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔
قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔
سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹرچند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔
یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیےایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔
عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟
مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘
ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل