ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فردِ جرم عائد، ملزمان کی جج سے تلخ کلامی
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں متنازع ٹویٹ کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فردِ جرم عائد کر دی۔ دونوں ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:متنازع ٹوئٹ کیس: ایمان مزاری کے شوہر ہادی علی چٹھہ گرفتار
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے استغاثہ کے تمام گواہان کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔ جج نے ہادی علی چٹھہ کو دوبارہ ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم بھی دیا۔
سماعت کے دوران جج افضل مجوکہ اور ہادی علی چٹھہ کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ میں مچلکے نہیں بھروں گا، آپ نے سال جیل میں رکھنا ہے تو رکھ لیں۔
انہوں نے جج سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ نے کل غیر قانونی کام کیا، آپ جج بننے کے اہل نہیں۔
ایمان مزاری نے بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں گرفتار کروانا چاہتے ہیں، میری بھی ضمانت کینسل کروا دیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری کیخلاف توہینِ عدالت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
جج افضل مجوکہ نے جواب دیا کہ میرا اصول ہے کہ میں آپ کو عزت دوں گا تو مجھے عزت ملے گی۔
وکیلِ صفائی قیصر امام نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو دیگر کیسز میں بھی مختلف عدالتوں میں پیش ہونا پڑتا ہے، جس کے باعث حاضری میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ جج نے کہا کہ اسی وجہ سے 3 مرتبہ سماعت ملتوی کی جا چکی ہے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 نومبر تک ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے درج کر رکھا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمان مزاری جج افضل مجوکہ سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سیشن کورٹ ہادی علی چٹھہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری جج افضل مجوکہ سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سیشن کورٹ ہادی علی چٹھہ اور ہادی علی چٹھہ ایمان مزاری کہا کہ
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔