data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کی تعمیر نو کے لیے 25 ارب روپے کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ سڑکوں کا نظام بدحالی کا شکارہے ،عوام پریشانی میں مبتلا ہیں، شہر میں ترقیاتی کام جنگی بنیادوں پر کام مکمل کیا جائے جبکہ کراچی کے جدید ٹرانسپورٹیشن منصوبے گرین لائن بی آر ٹی توسیعی منصوبے پر کام دوبارہ شروع ہوگیا ہے،نمائش تا جامع کلاتھ1.
8کلومیٹر ٹریک ایک برس میں مکمل ہوگا، منصوبے کی تکمیل کے بعد شہری سرجانی ٹاون سے جامع کلاتھ تک گرین لائن بس سروس سے آرام دہ سفر کرسکیں،میئر کراچی مرتضی وہاب نے اعلان کیا ہے کہ گرین لائن کامن کوریڈور 31 اکتوبر 2026 تک کھول دیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے شہر کی 315 اندرونی سڑکوں اور گلیوں کے ساتھ ساتھ 60 بڑی سڑکوں کی تعمیرنو کے لیے 25 ارب روپے کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو خستہ حال انفرااسٹرکچر اور ٹریفک جام سے نجات دلانے میں فنڈز رکاوٹ نہیں ہوں گے، لیکن تعمیرنو کا کام فوری طور پر شروع ہونا ضروری ہے۔ پیر کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد اجلاس جس میں وزیر بلدیات ناصر شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکرٹری اور دیگر اہم افسران نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے حالیہ شدید مون سون بارشوں کے بعد ہونے والے بڑے پیمانے پر نقصان کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی سڑکیں شدید خراب ہوچکی ہیں،سڑکوں کا نظام بدحالی کا شکار ہے، مرکزی شاہراہوں میں گڑھے پڑے ہیں جوشدید خطرات کا باعث بن رہے ہیں،جاری میگا پروجیکٹس بھی ٹریفک مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ شہر میں ترقیاتی کاموں کو تیز کیا جائے تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے میئر سے کہا کہ فنڈز کوئی مسئلہ نہیں، میں چاہتا ہوں کہ کام جنگی بنیادوں پر مکمل ہو۔ میئر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ شہر کی 315 اندرونی گلیاں انتہائی خراب حالت میں ہیں، وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام اندرونی گلیوں کے منصوبوں کی منظوری دی جائے اور کام تیزی سے مکمل کیا جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیر کی جانے والی گلیوں کے ساتھ باقاعدہ نکاسیِ آب کا نظام بھی بنایا جائے، اور اسی طرح 60 اہم شاہراہوں پر بھی نکاسی کے انتظامات یقینی بنائے جائیں۔علاوہ ازیں کراچی کے جدید ٹرانسپورٹیشن منصوبے گرین لائن بی آر ٹی توسیعی منصوبے پر کام دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔اس توسیعی منصوبہ کا ٹریک 1.8 کلومیٹر ہے۔یہ منصوبہ نمائش سے جامع کلاٹھ مارکیٹ تک ہوگا۔یہ منصوبہ ایک برس میں مکمل ہوگا،منصوبے کی تکمیل کے بعد شہری سرجانی ٹاؤن سے جامع کلاتھ تک گرین لائن بس سروس سے آرام دہ سفر کرسکیں گے۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے اعلان کیا ہے کہ گرین لائن کامن کوریڈور 31 اکتوبر 2026 تک کھول دیا جائے گا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گرین لائن کی تعمیر کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا رہا، لیکن کام مکمل ہونے کے بعد سہولت مہیا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ شروع کرتے وقت کے ایم سی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا، تاہم اب تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کیا جا رہا ہے۔ میئر کراچی نے مزید کہا کہ حکومت نے ریڈ لائن منصوبے کے مسائل بھی حل کر دیے ہیں، ا?ئندہ چند روز میں اس پر باضابطہ کام شروع ہو جائے گا۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق نے کہا کہ میئر کراچی نے سڑکوں کی خرابی اور ڈرینیج کے مسائل کی نشان دہی کی تھی، جس پر انہوں نے پی آئی ڈی سی ایل سے بات کی مرتضیٰ وہاب کے تحفظات درست تھے۔

اسٹاف رپورٹر

سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ:
میئر کراچی
کی منظوری
گرین لائن
نے کہا کہ
کی تعمیر
انہوں نے
پر کام
کے بعد
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔