وفاقی آئینی عدالت بل بورڈز لگانے پر برہم، تنصیب کے طریقے پر بھی سوالات اٹھادیے
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے بل بورڈز لگانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تنصیب کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھادیے۔
وفاقی آئینی عدالت کے دو رکنی بینچ نےبل بورڈز لگانے کی اجازت سے متعلق درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت آئینی عدالت نے پارکس اینڈ ہینڈی کرافٹ اتھارٹی کے افسران اور وکیل پر برہمی کا اظہار کیا۔
جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ بِل بورڈز بہت خطرناک ہوتے ہیں، بِل بورڈ لگا کر فیس کی مد میں پیسہ اکٹھا کرنا چاہتے ہیں، کیا پیسے کیلئے اتنا گر جاؤگے؟
جسٹس حسن نے پارکس اتھارٹی کے وکیل سے استفسار کیا کہ فیس کے لیے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا چاہتے ہیں؟ بِل بورڈز گرنے سے کوئی نقصان ہوگیا تو کون ذمہ دار ہوگا؟کیا اتھارٹی جانی و مالی نقصان کی ذمہ داری لینے کو تیار ہے؟
آئینی عدالت نے بِل بورڈز لگانے کے طریقے کار پر بھی سوالات اٹھائے دیے اور اس موقع پر جسٹس حسن نے کہا آندھی طوفان میں بِل بورڈ گر جاتے ہیں، کیا بِل بورڈ لگانے سے قبل جگہ کا تعمیراتی معیار پرکھا جاتاہے؟ سپریم کورٹ بِل بورڈ پر پابندی لگانے کا فیصلہ دے چکی ہے۔
اس موقع پر وکیل پارکس اینڈ ہینڈی کرافٹ اتھارٹی نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کا جائزہ لینے کی مہلت دی جائے، اس پر جسٹس حسن نے کہا آپ کو مہلت دے رہے، آپ کو عدالتی فیصلے نہ ملےتو آئندہ سماعت پر ہم نکال کردے دیں گے۔
جسٹس حسن رضوی کا کہنا تھاکہ آئندہ سماعت پر اپیل واپس لینے کی بات کیجئے گا، بِل بورڈ لگانے کی اجازت پر بات کی تو جرمانہ کےساتھ اپیل مسترد کریں گے۔
بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت کے دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔ ، ری رایٹ اور ہیومینائزڈ کریں
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وفاقی ا ئینی عدالت ل بورڈز لگانے نے کہا
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔