کراچی ایئر پورٹ پر مسافر سے 20 پاکستانی پاسپورٹس برآمد
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی۔فوٹو: فائل
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن نے کراچی ائیر پورٹ پر مسافر سے 20 پاکستانی پاسپورٹس برآمد کرلیے۔
ترجمان کے مطابق ایف آئی اے امیگریشن نے کراچی ائیر پورٹ پر کارروائی کی اور وزٹ ویزے پر ایران جانے والے مسافر کو آف لوڈ کر دیا گیا۔
ایف آئی اے ترجمان کے مطابق ملزم کے قبضے سے 20 پاکستانی پاسپورٹس، ایرانی ویزا ایپلیکیشن فارم اور جعلی ڈرائیونگ لائسنس بھی برآمد ہوا ہے۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی تفتیش میں پتا چلا ہے کہ ملزم بھاری رقوم کے عوض شہریوں کو ایران بھجواتا تھا اور اس کےلیے فی کس ڈھائی لاکھ روپے وصول کرتا تھا۔
ایف آئی اے ترجمان کے مطابق گرفتار ملزم برآمد شدہ پاسپورٹس سے متعلق حکام کو مطمئن نہیں کرسکا، جسے قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفنکنگ سرکل منتقل کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ترجمان کے مطابق ایف ا ئی اے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک