ڈی جی پی آر بلوچستان کے مطابق چیف انسپکٹر مائنز عبدالغنی بلوچ کول مائنز کمپنی کیخلاف مقدمہ درج کرنے کیلئے ضلعی انتظامیہ کو خط ارسال کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے کوئٹہ کے نواحی علاقے سنجدی کی کوئلہ کان میں پیش آنے والے حادثے پر متعلقہ کول مائن کمپنی کے مالک کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈی جی پی آر بلوچستان کے مطابق چیف انسپکٹر مائنز عبدالغنی بلوچ کول مائنز کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لئے ضلعی انتظامیہ کو خط ارسال کر دیا ہے۔ مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ کول مائنز کمیٹی نے حفاظتی اقدامات نہیں کئے۔ جس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ اس حوالے سے وزیر معدنیات بلوچستان شعیب نوشیروانی نے کہا کہ کانوں میں حفاظتی اقدامات نہ ہونے پر سخت کارروائی ہوگی۔ حادثے کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔ کانکنوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے لئے نئی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے چیف انسپکٹر مائنز عبدالغنی بلوچ نے مقامی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ کمپنی کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے بعد تحقیقات کی جائیں گی۔ اس کمپنی کی کان میں گزشتہ برس بھی حادثہ ہوا تھا، جس میں 11 کان کن جاں بحق ہوئے تھے۔ دوسری جانب صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) حکام کے مطابق سنجدی کوئلہ کان میں پھنسے 8 مزدوروں کو نکالنے کے لئے آپریشن جاری ہے۔ کان سے 2 روز قبل 4 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی تھیں۔ 2 روز قبل گیس دھماکے کے باعث 12 کان کن پھنس گئے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کمپنی کے

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال