عمران خان کی ٹوئٹ، پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات سے مذاکرات کا معاملہ اٹک گیا، اعجاز الحق
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT
اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مذاکرات کرنے والی حکومتی ٹیم کے رکن اعجاز الحق نے مذاکرات میں تعطل کی وجہ عمران خان کے ٹوئٹ اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات کو قرار دے دیا۔
نجی ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے دونوں فریقین کوصبر وتحمل سے کام لینے کامشورہ بھی دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب اچھے ماحول میں ملاقات ہورہی ہے تو ایسے میں ایک دوسرے پر حملے کرنے سے معاملات خراب ہوتے ہیں اور پھر عمران خان صاحب کی ٹوئٹ بھی آگئی جس کا یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ کون استعمال کررہا ہے۔
اعجاز الحق نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے پریس کانفرنس میں مذاکراتی عمل سے متعلق مثبت گفتگو نہیں کی گئی، انہوں نے دھمکی آمیز لحجہ اختیار کیا جس سے معاملات کو آگے لے جانا مشکل ہوجاتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تیسرے اجلاس سے متعلق ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، اگر ملاقات ہوئی تو اس میں پی ٹی آئی اپنے تحریری مطالبات تیار ہوجاتے ہیں تو اس کے بعد یہ میٹنگ ہوجائے گی۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے اندر بھی بہت سے ایسے عناصر ہیں جو ان مذاکرات سے خوش نہیں، ان لوگوں نے اعتراض بھی کیا کہ جب ہمارے لوگ جیل میں ہیں تو کیوں حکومت سے مذاکرات کیے جارہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
سیشن کورٹ لاہور میں ریاست مخالف ٹویٹ کرنے کے مقدمے میں عدالت نے صنم جاوید(Sanam javed) اور فلک جاوید(Falak Javed) کا جیل ٹرائل کے لیے دائر درخواست خارج کردی ۔
عدالت نے این سی سی آئی اے کو ہدایت دی کہ جیل ٹرائل کے لیے ہوم ڈیپارٹمنٹ سے رجوع کیا جائے۔
مزیدپڑھیں:سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
ایڈیشنل سیشن جج نصرت صدیقی نے این سی سی آئی اے کی درخواست پر سماعت کی، عدالت نے مین کیس کی سماعت دس ستمبر تک ملتوی کردی۔
مقدمے میں فلک جاوید کو حاضری کے لیے عدالت کے روبرو پیش کیا گیا، این سی سی آئی اے نے مقدمے کا چالان جمع کروا رکھا ہے۔