عمران خان کی رہائی کیلیے دباؤ ہے نہ بنی گالہ منتقلی کی پیشکش کی ،وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT
سیالکوٹ (آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا ہر حربہ ناکام ہو ا ہے، ان کی خواہش کے باوجود ترسیلات زر بند نہیں ہوئیں بلکہ ان میں ا ضافہ ہوا ہے ، عمران خان کی رہائی کے لیے ٹرمپ کی طرف سے کوئی دباو نہیں ہے، وہ باہر آئیں گے یا نہیں اس کے بارے میں پیش گوئی نہیں کرسکتا یہ عدالتوں کا کام ہے، سیالکوٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی اپنے گھروں کو خرچے کے لیے پیسے بھیجتے ہیں، یہ پی ٹی آئی یا عمران خان کی فرمائش پر بند ہونا قطعی طور پر ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ماہ پی ٹی آئی کے اندازے غلط ثابت ہوتے ہیں اور ترسیلات زر میں اضافہ ہوتا ہے، اب کہہ رہے ہیں کہ 2، 3 مہینے بعد اس کے اثرات ظاہر ہوں گے، ان کا ہر حربہ ناکام ہوا، ہے اور یہ نامراد رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہتے ہیں ہمیں بنی گالہ منتقلی کی آفر ہوئی ہے، یہ ان خواہشات ہیں ان میں ذرا برابر صداقت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے دور میں تباہی کرکے گئی تھی، کل اللہ نے کرم کیا اور پیرس کے لیے پی آئی اے کی فلائٹ چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یورپ میں 19 شہروں کے لیے پروازیں شروع ہوں گی جبکہ ہمیں پوری امید ہے کہ برطانیہ سے بھی اجازت ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ پی ٹی ا ئی کے لیے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔