Express News:
2026-07-24@15:24:35 GMT

پاک بنگلہ دیش جوائنٹ بزنس کونسل کے لیے ایم او یو پر دستخط

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT

کراچی:

ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے بتایا ہے کہ ایف پی سی سی آئی کی قیادت میں پاکستانی تجارتی وفد نے بنگلہ دیش  پاکستان بزنس فورم میں شرکت کی جس کا اہتمام فیڈریشن آف بنگلہ دیش چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (FBCCI) نے پیر کو ڈھاکا میں کیا، اس فورم میں ایف پی سی سی آئی اور FBCCI کے مابین ایک اعلیٰ سطح کی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر بھی دستخط کیے گئے، جس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بہتر پر سہولت اور قابل عمل بنانے کے لیے پاکستان-بنگلہ دیش جوائنٹ بزنس کونسل کی تشکیل کی جائے گی۔

عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ بزنس فورم میں متنوع صنعتوں اور شعبہ جات جیسے کہ الیکٹرانکس، کاریں، صنعتی مشینری، قالین، کھلونے، سیرامکس، سینیٹری مصنوعات، دستکاری، کپڑے، ریڈی میڈ گارمنٹس، چمڑے کی مصنوعات، ہوم اپلائنسز، پراسیسڈ فوڈز، فرنیچر، پلاسٹک کے سامان، جوٹ کی مصنوعات، کاسمیٹکس، کھیلوں کے سامان اور زیورات وغیرہ سے متعلق کاروباری دلچسپیوں کی نمائندگی ہو ئی۔

اس موقع پر، FBCCI کے ایڈمنسٹریٹر محمد حفیظ الرحمن نے بنگلہ دیش اور پاکستان کے تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (SAARC) اور اسلامی تعاون کی تنظیم (OIC) کو بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا۔

محمد حفیظ الرحمن نے کہا کہ چوتھے صنعتی انقلاب کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان توانائی، تعلیم، ٹیکنالوجی، انسانی وسائل کی ترقی، تحقیق اور اختراع جیسے شعبوں میں مل کر کام کرنے کی کافی گنجائش موجود ہے۔

صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے وفد کے بنگلہ دیش کے دورے کے دوران د یگر اعلیٰ سطحی مصروفیات کے بارے میں آگاہی دیتے ہو ئے کہا کہ پاکستان کے تجارتی وفد نے ایک دن قبل بنگلہ دیش کے کامرس ایڈوائزر شیخ بشیر الدین سے اہم ملاقات کی۔ جس میں انھوں نے پاکستانی ایکسپورٹرز اور پاکستانی مصنوعات کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنی حکومت کے ارادے کا اظہار کیا۔

عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو 25,000 میٹرک ٹن چینی کا ابتدائی آرڈر موصول ہوا ہے اور بنگلہ دیش سے خام کپڑے کی مانگ اتنی زیادہ ہے کہ فیصل آباد میں اس کی کمی ہو گئی ہے۔

ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ پاکستانی وفد باہمی تعاون کی راہیں تلاش کرنے اور مختلف موجودہ اور ابھرتی ہوئی صنعتوں میں بین الاقوامی رجحانات کا مطالعہ کرنے کے لیے ڈھاکہ انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر (DITF) کا بھی دورہ کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عاطف اکرام شیخ نے ایف پی سی سی ا ئی بنگلہ دیش کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • ایشین گیمز کرکٹ : پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو براہِ راست کوارٹر فائنل میں رسائی مل گئی
  • رانا ثنا اور امیر مقام کی برطانوی بزنس مین سے ملاقات، راجہ وسیم نے غلاف کعبہ بطور تحفہ پیش کیا
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی