UrduPoint:
2026-07-24@15:11:24 GMT

موہن سنگھ سکھوں کی جدوجہد اور خوشحالی کا استعارہ ہیں

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT

موہن سنگھ سکھوں کی جدوجہد اور خوشحالی کا استعارہ ہیں

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 17 جنوری 2025ء) بھارت کی دو فیصد سے بھی کم آبادی ہونے کے باوجود سکھوں کا ملک کو فوڈ سکیورٹی فراہم کرنے کے علاوہ مینوفیکچرنگ شعبے میں بھی نمایاں کردار ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق مذہبی گروہوں میں سکھ سب سے زیادہ امیر ہیں۔ تقریباً 60 فیصد سکھ گھرانے خوشحال اور زندگی گزارنے کے جدید وسائل رکھتے ہیں۔

منموہن سنگھ کی طرح ان کے برادری کی ایک بڑی آبادی تقسیم ہند کے بعد انتہائی کسمپرسی کا شکار ہوئی، مگر دو دہائیوں کے اندر ہی پھر سے اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی۔ یہ شاید اسی برادری کا طرہ امتیاز ہے، ورنہ اتنے مصائب جھیلنے اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے بعد شاید ہی کوئی اور کمیونٹی اتنی کم مدت میں اپنے پیروں پر کھڑا ہو پائی ہو۔

(جاری ہے)

تقسیم ہند اور پھر فرقہ وارانہ فسادات میں سب سے زیادہ سکھ اور مسلمان متاثر ہوئے۔

ان کو اپنی پشتینی جائیدادیں اور گھروں کو چھوڑ کر نئے آشیانے بسانے پڑے۔

سکھوں کو، پنجاب میں زرخیز زمینوں کو چھوڑ کر بھارت میں انجان شہروں میں مستقبل تلاش کرنا پڑا۔ حال ہی میں انتقال کر جانے والے بھارت کے پہلے سکھ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ، اسی جدوجہد یعنی نئے آشیانے کی تلاش اور پھر کامیابی کی انتہا تک پہنچنے اور سکھوں کی روایتی سخت جانی اور برداشت کا استعارہ ہیں۔

سکھ بھارت کی واحد اقلیت ہے، جو سب سے زیادہ باوقار عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ منموہن سنگھ، جو 2004 میں وزیر اعظم بنے، کے علاوہ، گیانی ذیل سنگھ بھارت کے صدر، جنرل جوگندر جسونت سنگھ آرمی چیف، فضائیہ کے موجودہ سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نیز بھارتی فضائیہ کے واحد مارشل آف ایئر ارجن سنگھ بھی سکھ ہی تھے۔

انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے سابق ڈائریکٹر نہچل سندھو اور ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را) کے سربراہ امرجیت سنگھ دولت جیسے سکھوں نے قومی سلامتی کے عہدوں پر فائز ہو کر اپنا لوہا منوایا ہے۔

چوتھی صدی قبل مسیح میں جب سے یونانی بادشاہ سکندر نے بھارت پر حملہ کیا، تب سے پنجاب مسلسل حملہ آور فوجوں کے نشانے پر رہا ہے۔ ان حملوں کا سامنا کرنے سے لے کر برطانوی فوج میں سب سے بڑی تعداد میں شامل ہونے کے سبب پنجاب ہمیشہ دفاعی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا آیا ہے۔

سکھوں نے برصغیر کی تقسیم، اپنی سب سے مقدس عبادت گاہ گولڈن ٹیمپل پر حملہ اور 1984 کے فرقہ وارانہ فسادات سہے ہیں۔

سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کو جب ان کے سکھ محافظوں نے قتل کیا، تو اس کا انتقام دہلی اور ملک کے دیگر شہروں کی سڑکوں پر معصوم سکھوں کا خون بہا کر لیا گیا۔ حتیٰ کہ صدر گیانی ذیل سنگھ کے قافلے تک کو نہیں بخشا گیا۔

صحافی کلدیپ نیئر اپنی کتاب 'ٹریجڈی آف پنجاب، آپریشن بلیو اسٹار ایںڈ آفٹر' میں لکھتے ہیں کہ ذیل سنگھ کے قافلے پر دہلی کے صفدر جنگ علاقے کے قریب اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جا رہے تھے، جہاں مسز گاندھی کی باقیات رکھی گئی تھی۔

بہت کم افراد کو معلوم ہو گا کہ من موہن سنگھ بھی اس دن بال بال بچ گئے۔ ایک ہجوم ان کے جان کے درپے ہو گیا تھا۔

مسز گاندھی کے قتل کے وقت وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر تھے۔ وہ ممبئی سے مسز گاندھی کو آخری خراج عقیدت پیش کرنے آئے تھے۔ وہ اس کے بعد دہلی میں اپنے گھر اشوک وہار رات گزارنے چلے گئے اور اپنے داماد وجے تنکھا اور بیٹی کو اپنے گھر بلایا۔

دیر رات ایک ہجوم باہر اکھٹا ہوا اور مکان کو جلانے اور سکھوں کر باہر نکال کر مارنے کے لیے نعرے بلند کرنے لگا۔ ان کے داماد نے باہر جا کر ہجوم کو بتایا یہ گھر واقعی ایک سکھ کا تھا، مگر کئی ماہ قبل انہوں نے اس کو خریدا ہے، اور وہ ایک ہندو ہیں۔ کافی سمجھانے بجھانے کے بعد ہجوم وہاں سے جانے پر آمادہ ہوا یا شاید ان کو کوئی اور شکار مل گیا تھا۔

من موہن سنگھ کی سوانح حیات میں، جو ان کی بیٹی دمن سنگھ نے لکھی ہے، کے مطابق سب سے زیادہ حیرانی کی بات یہ تھی کہ پاس کے مندر کا پجاری بھی اس بھیڑ میں شامل تھا اور ہجوم کو اکسا رہا تھا۔ ہجوم کے جانے کے بعد رات کے اندھیرے میں من موہن سنگھ کو ایئر پورٹ پہنچایا گیا، جہاں سے وہ صبح سویرے ممبئی روانہ ہو گئے۔

بقول ریٹائرڈ بیوروکریٹ رمیش اندر سنگھ، اس طرح کے واقعات سے نپٹنے کی جدوجہد نے سکھوں کو ایک ڈسپلن سکھایا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار سربجیت دھالیوال کہتے ہیں، ''جب بھارت خوراک کے لیے پوری دنیا سے ایک طرح سے بھیک مانگ رہا تھا، تو پنجاب کے کسانوں نے اس چیلنج کو قبول کیا۔ چند برسوں میں ایک سبز انقلاب برپا ہو گیا اور بھارت اناج میں خود کفیل ہو گیا۔

ماہرین بتاتے ہیں کہ سکھوں کی اس تیز رفتار ترقی کا تعلق ان کے عقیدے سے ہے، جو سکھ گرووں کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔

سکھ عقیدے کی بنیاد محنت، اشتراک، سماجی انصاف اور صنفی مساوات پر رکھی گئی ہے۔

منموہن سنگھ اپنی والدہ کو بچپن میں کھو چکے تھے اور ان کی پرورش ان کے دادا دادی نے کی۔ تقسیم کے دوران ان کے دادا کا قتل ہو گیا، جن کے ساتھ ان کا بہت گہرا رشتہ تھا۔ ان کا خاندان ایک نئی شروعات کرنے کے لیے جیب میں صرف چند روپے لے کر بھارت چلا آیا تھا۔ ہوشیار پور میں سڑک کے لیمپ پوسٹ کے نیچے وہ اپنی ہوم ورک کرتے تھے، کیونکہ گھر میں بجلی یا دیا جلانے کے پیسے نہیں ہوتے تھے۔

ان کے ابتدائی سال اور ان کا سیاسی کیریئر اپنے چیلنجوں کے ساتھ آیا۔ لیکن آخر میں، وہ اپنے پیچھے ایک قابل فخر وراثت چھوڑ گئے، جس پر بھارت کو ہمیشہ فخر رہے گا۔

یہ اس خطے کا جغرافیہ اور سکھ تعلیمات ہیں، جو کسی بھی مصیبت کو سکھوں پر حاوی نہیں ہونے دیتی۔ ماہر عمرانیات ہرویندر سنگھ بھٹی کہتے ہے، "پنجاب کا پورا علاقہ، افغانستان تک روایتی طور پر ایک قبائلی علاقہ تھا۔

سکھوں کے معاملے میں، مذہبی تعلیمات نے اس قبائلی برادری کو ایک روحانی برادری میں تبدیل کر دیا۔"

سکھوں کی یہی خوبی ہے جو انہیں ہر طرح کے ظلم کے خلاف لڑنے پر مجبور کرتی ہے۔ سکندر سے لے کر اندرا گاندھی کی نافذ کردہ ایمرجنسی اور اب نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے لائے گئے کھیتی کے قوانین کے خلاف حالیہ احتجاج تک، سکھوں نے ان سب کے خلاف آواز بلند کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایمرجنسی کے دوران گرفتار کیے گئے 1.

4 لاکھ لوگوں میں سے 43000 سکھ تھے۔

سکھ مت اپنے پیروکاروں سے کہتا ہے کہ ذاتی اور سماجی زندگی کو کبھی ترک نہ کریں۔ سکھ ازم رہبانیت اور تارک دنیا ہونے کے سخت خلاف ہے۔ یہ ہر سکھ کو ہدایت ہے کہ ایک اچھی زندگی گزارے۔ خود کمائے اور دوسروں کو بھی کھلائے اور اپنی دولت میں سماج کو شریک کرے۔

غالباً یہی وجہ ہے کہ دنیا کی کل آبادی کا محض 0.4 فیصد ہونے کے باوجود سکھوں کی موجودگی کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سب سے زیادہ سکھوں کی ہونے کے کے لیے ہو گیا کے بعد

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا