جوڈیشل کمیشن کے قیام سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
آج کی میٹنگ بہت اچھی رہی ہے اور میٹنگز چلتی رہیں گی، عرفان صدیقی - فوٹو: فائل
حکومتی مذکراتی کمیٹی کے ترجمان عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے قیام سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
اسپیکر آفس میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ آج کی میٹنگ بہت اچھی رہی ہے اور میٹنگز چلتی رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے قیام سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، کل بھی ہماری اسی حوالے سے میٹنگ ہے۔
یہ بھی پڑھیے پی ٹی آئی مطالبات پر 7 جماعتوں سے مشاورت کرنی ہوگی، عرفان صدیقی پی ٹی آئی کے 2 مطالبات چھوٹے نہیں بڑے ہیں، عرفان صدیقیسینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ آج کمیٹی کے اجلاس میں ساتوں جماعتوں کے نمائندے موجود تھے، اجلاس میں بڑی سیر حاصل گفتگو ہوئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیون ورکنگ ڈیز پورے ہوں گے تو ہم انشااللّٰہ ان کو جواب دیں گے۔ ہمارے نزدیک چوتھا اجلاس طے ہوگیا تھا جب تیسرا اجلاس ختم ہوا تھا۔
عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مسودے کو پڑھا ہے، اس پر کوئی رائے قائم نہیں ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عرفان صدیقی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔