سیاسی ڈائیلاگ میں ڈیڈلاک، پی ٹی آئی کا مذاکرات کے چوتھے راؤنڈ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے چوتھے راؤنڈ میں ہم شرکت نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں حکومت 7 روز میں مطالبات پر جواب دے ورنہ چوتھی میٹنگ نہیں ہوگی، پی ٹی آئی
اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کی چوتھی نشست سے قبل ضروری ہے کہ جوڈیشل کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔ ہماری مذاکراتی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سے قبل ہم چوتھے راؤنڈ میں شرکت نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان کی واضح ہدایات ہیں کہ اگر حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن نہیں بنایا جاتا تو بات چیت کا کوئی فائدہ ہی نہیں۔
واضح رہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اس سے قبل مذاکرات کے تین دور ہوچکے ہیں، تحریک انصاف نے تیسرے اجلاس میں اپنے مطالبات تحریری طور پر پیش کیے تھے۔
اب حکومت کی مذاکراتی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے مطالبات کا جواب دینے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں حکومت پی ٹی آئی مذاکرات: عمران خان نے نئی شرط عائد کردی
گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور مذاکراتی کمیٹی کے اہم رکن عرفان صدیقی نے کہا تھا کہ تحریک انصاف کو جواب دینے میں ایک ہفتے کا وقت بھی لگ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جوڈیشل کمیشن کا قیام حکومت پی ٹی آئی مذاکرات عمر ایوب عمران خان رہائی مذاکراتی کمیٹی مطالبات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جوڈیشل کمیشن کا قیام حکومت پی ٹی ا ئی مذاکرات عمر ایوب عمران خان رہائی مذاکراتی کمیٹی مطالبات وی نیوز مذاکراتی کمیٹی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
نواز شریف پہلے یہ بتائیں ووٹ کو عزت کب دینی ہے؟ شرجیل میمن کا ردعمل
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے میر پور جلسے میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ن لیگ خیراتی مینڈیٹ والی جماعت ہے، اس کے منہ سے الیکشن اور ووٹوں کی باتیں اچھی نہیں لگتیں، میاں نواز شریف صاحب یہ بتائیں کہ ووٹ کو عزت کب دینی ہے؟
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ نواز شریف صاحب، سیاست ہوتی رہے گی، سندھ اور کشمیر کی سرزمین و عوام کو طنز و مزاح کا موضوع مت بنائیں، سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر کسی بھی صوبے، شہر یا علاقے کی تضحیک کسی صورت قابلِ قبول نہیں، سابق وزیر اعظم کا یہ رویہ نہ صرف غیر سنجیدہ بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ آپ کے بیان نے لاکھوں پاکستانیوں، کشمیر اور سندھ کے عوام جذبات کو مجروح کیا ہے،کسی بھی شہر یا ضلع کا نام سیاسی تقریر میں مذاق یا تقابل کے انداز میں استعمال کرنا شعوری پسماندگی ہے، کشمیر پاکستان کی قومی جدوجہد کی علامت ہے ، سندھ کا ہر شہر بھی اتنا ہی محترم اور عزیز ہے۔
مزید پڑھیںآزاد کشمیر میں مخالفین کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں، اب کشمیر کے وارث آگئے ہیں، مریم نواز
بلاول برخودار! کشمیر کو کشمور، میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھنا، نواز شریف
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اگرچہ نواز شریف نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ "تلخی نہیں ہونی چاہیے"، لیکن ان کے اپنے الفاظ ہی سیاسی تلخی اور غیر ضروری تقسیم کا باعث بن رہے ہیں، قومی رہنماؤں کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو مختلف علاقوں کے عوام میں احساسِ محرومی یا تفریق کو جنم دیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ قومی یکجہتی، باہمی احترام اور سنجیدہ سیاسی رویوں کا متقاضی ہے۔ سندھ اور کشمیر کے عوام اپنی سرزمین و شناخت پر فخر کرتے ہیں اور کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ انہیں سیاسی طنز کا نشانہ بنائے، جو سیاست تقسیم اور تمسخر پر مبنی ہو، وہ قومی مفاد کے بجائے سیاسی نقصان کا سبب بنتی ہے۔