ذرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مقررین نے ”تحریک آزادی جموں و کشمیر اور ہماری ذمہ داریاں” کے عنوان سے کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ اور اتحاد اسلامی جموں و کشمیر کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسلام ٹائمز۔ مظفر آباد میں منعقدہ ایک سیمینار کے مقررین کا کہنا تھا کہ کشمیری بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور منا کر بھارت کے مکروہ چہرے کو ایک بار پھر بے نقاب کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مقررین نے ”تحریک آزادی جموں و کشمیر اور ہماری ذمہ داریاں” کے عنوان سے کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ اور اتحاد اسلامی جموں و کشمیر کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کبھی بھی اپنے مادر وطن پر بھارت کے غیر قانونی تسلط کو قبول نہیں کریں گے۔ نریندر مودی کے عزائم خاک میں مل کر رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کے حقوق پامال اور ان پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ کشمیری عوام نہ تو بھارت جیسے ظالم جابر ملک کی غلامی تسلیم کرتے ہیں اور نہ کریں گے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوششیں کر رہا ہے، کشمیری جسے خون دے کر ناکام کرنے کیلئے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم نے پاکستان کے قیام سے قبل کشمیر کا الحاق پاکستان سے کرنے کا عزم کیا تھا اور آج بھی اس پر قائم ہیں۔ بھارت خود کشمیر کا مقدمہ اقوام متحدہ لے کر گیا تھا اور اپ کشمیریوں سے کئے وعدے پر عملدرآمد سے بھاگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی قربانیوں کی طویل تاریخ رکھتی ہے۔بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف کشمیری عوام دہائیوں سے اپنی آزادی اور حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری مسلمانوں پر بھارتی فورسز کے مظالم، ماورائے عدالت قتل، گرفتاریوں، خواتین کی بے حرمتی اور غیر انسانی مظالم معمول بن چکے ہیں۔ مقررین نے کہا جب تک کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا پیدائشی حق حق خودارادیت نہیں مل جاتا وہ اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھیں گے۔ مقررین میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ پرویز، امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان ڈاکٹر راجہ محمد مشتاق خان، چیئرمین اتحاد اسلامی جموں و کشمیر منظور احمد شاہ، حریت رہنما مشتاق الاسلام اور دیگر شامل تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام بھارت کے کریں گے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا