اپر کرم کیلئے ادوایات کی ایک اور کھیپ ہیلی کاپٹر کے ذریعے روانہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2025 GMT
دوسری جانب ہنگو کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹل سے 20 سے زائد چھوٹی گاڑیوں پر مشتمل قافلہ پاراچنار روانہ کر دیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق 50 کے قریب بڑی گاڑیاں کچھ دیر بعد روآنہ کی جائیں گی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپورکا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اپر کرم کے لیے ادویات کی ایک اور کھیپ روانہ کر دی گئی ہے جو ایم ایس پاڑہ چنار کے حوالے کی جائیں گی۔خیبرپختونخوا حکومت کے ایک اعلامیے کے مطابق وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ وہ کرم میں جاری امدادی سرگرمیوں سے متعلق تمام تر معاملات کا معائنہ خود کر رہے ہیں۔ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کرم میں ضرورت کے مطابق تمام اشیا جلد ازجلد فراہم کی جا رہی ہیں اور اسی سلسلے میں اپر کرم کے لیے 1500 کلو وزنی ادویات ہیلی کاپٹر کے زریعے پاڑہ چنار بھیجی جا رہی ہیں۔ علی امین گنڈاپور کے مطابق تمام تر ادویات ایم ایس پاڑاچنار کے حوالے کی جائیں گی۔ ان ادویات کی کھیپ میں اینٹی بائیوٹکس، سیرپ، پین کلرز، بچوں کےلیے ادویات شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کرم کا زمینی رابطہ جب تک بحال نہیں ہوتا تب تک ہیلی کاپٹر کے زریعے ادویات کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہے گا اور ضرورت کے مطابق دیگر اشیاء بھی مرحلہ وار روانہ کی جائیں گی۔ دوسری جانب ہنگو کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹل سے 20 سے زائد چھوٹی گاڑیوں پر مشتمل قافلہ پاراچنار روانہ کر دیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق 50 کے قریب بڑی گاڑیاں کچھ دیر بعد روآنہ کی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ضلعی انتظامیہ کی جائیں گی کے مطابق علی امین
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔