لاہور: 2 گھریلو ملازماؤں نے تاجر کے گھر کا صفایا کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2025 GMT
لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 2 خواتین سمیت 4 ڈاکوؤں نے ایک تاجر کے گھر کاصفایا کر دیا۔
واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق ماڈل ٹاؤن میں ڈکیتی کی واردات 22 جنوری کو تاجر شاہ زیب اکرم کے گھر پر ہوئی۔
تاجر نے واردات سے 1 روز قبل ان دونوں خواتین کو گھر پر ملازم رکھا تھا۔
کراچی: اورنگی میں تاجر کے گھر ڈکیتی، زیرِ تربیت ڈی ایس پی گرفتارڈی آئی جی عاصم قائمخانی کی رپورٹ میں یہ اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ 13 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں پولیس چھاپے کو ڈکیتی قرار دیدیا گیا۔
ملازم خواتین نے اپنے 2 مسلح ساتھیوں کے ہمراہ اہلِ خانہ کو یرغمال بنایا جس کے بعد وہ 2 کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے زیورات اور دیگر سامان لوٹ کر فرار ہو گئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈکیتی کی واردات کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے گھر
پڑھیں:
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو:
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔