سیکورٹی فورسز کے خفیہ اطلاع پر آپریشنز ،30 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) سیکورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں 3 علیحدہ علیحدہ کارروائیوں میں 30 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔ صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکورٹی فوسز کو کامیاب کارروئیوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 24 اور 25 جنوری کو خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت
میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور 18 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ 6 کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا۔ دوسری انٹیلی جنس کارروائی ضلع کرک میں کی گئی جہاں فائرنگ کے تبادلے میں 8 دہشتگرد ہلاک ہوئے اس کے علاوہ تیسری جھڑپ خیبر ضلع کے عمومی علاقے باغ میں ہوئی، جہاں سیکورٹی فورسز نے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔باغ میں دوطرفہ فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں دہشتگرد رہنما عزیز الرحمن عرف قاری اسماعیل بھی شامل تھا جبکہ 2 دہشتگرد زخمی ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا جبکہ مارے جانے والے دہشت گرد معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث تھے۔ اعلامیے کے مطابق علاقے میں کسی بھی باقی ماندہ خوارج کو ختم کرنے کے لیے کلیرنس آپریشن جاری ہیں، پاک فوج دہشت گردی کے ناسور کو ملک سے مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیکورٹی فورسز
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک