پشتون محب وطن ہیں‘ ملک توڑنا نہیں چاہتے‘ محمود خان اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT
کوئٹہ(صباح نیوز)تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پشتون محب وطن ہیں ہم پاکستان کو توڑنا نہیں چاہتے، 14اگست کو آزادی کے نعرے لگائے جاتے ہیں لیکن ہم آزاد نہیں ہیں، پاکستان کے کچھ مسائل دشمن کے پیدا کردہ ہیں اور کچھ ہماری اپنی غلطیاں ہیں۔ہفتہ کے روز کوئٹہ میں پشتون اولسی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے
سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی نے کہا کہ قیام پاکستان میں پشتونوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، ہماری صفوں میں میر جعفر اور میر صادق موجود ہیں، پاکستان میں کچھ مسائل دشمن کے پیداکردہ ہے کچھ ہماری اپنی غلطیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی ڈیورنڈ لائن پر کشمکش ہے، پاکستان ہمارا ملک ہے، یہاں مختلف اقوام آباد ہیں، پشتون پاکستان میں کسی کے غلام نہیں ہیں ، 14 اگست کے دن آزادی کے نعرے لگائے جاتے ہیں لیکن ہم آزاد نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پشتونوں کو پاکستان میں آزادی نہیں دی گئی، پاکستان میں پشتونوں کے سوا کوئی بھی آزادی کی اہمیت نہیں سمجھتا، افغانستان ہمارا ملک ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میرے اکابرین آج بھی افغانستان میں دفن ہیں، ہم پاکستان کو توڑنا نہیں چاہتے، پشتون ایک بار واضع کرنا چاہتے ہیں ہم افغانستان کے خلاف بات کرنے پر ناراض ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والی تمام اقوام کا حق ملکیت تسلیم کیا جائے، افواج پاکستان یہ بات ذہن نشین کریں کہ سیاست میں مداخلت مت کریں، جتنا جلدی ہو سکے عمران خان کو رہا کیا جائے، پشتونخوا میپ پاکستان کو رضاکارانہ فیڈریشن سمجھتی ہے۔محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ پاکستان کو چلانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ آئین کی بالا دستی تسلیم کی جائے، عوام کے ووٹ کے ذریعے منتخب پارلیمنٹ پاکستان کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کا مرکز ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بلوچ، سندھی، پنجابی سمیت دیگر اقوام کی سرزمین پر وہاں کے رہنے والوں کا حق تسلیم کیا جائے، پشتونخوا وطن میں جرگوں کا آغاز ہو گیا ہے ہم اپنے عوام میں جائیں گے، قوانین منظور ہوئے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی نے جھوٹ بولا یا جھوٹی خبر چلائی تو 7 سال جیل ہو گی۔محمود اچکزئی نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آپ نے جو جھوٹ بولا اور الیکٹیڈ پارلیمنٹ پر ڈاکہ ڈالا ہے اس کا کیا ہوگا؟ فروری کے انتخابات عمران خان کی پارٹی جیت چکی ہے آپ نے عمران خان کے مینڈیٹ پر قبضہ کر رکھا ہے۔عمران خان اور ان کے اہلیہ پر طرح طرح کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی نے اچکزئی نے کہا پاکستان میں پاکستان کو
پڑھیں:
کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ جبکہ بھارت کا امن کا درس دینا حقائق کے منافی اور مضحکہ خیز ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارتی مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، لیکن آج وہ انہی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے انکار سے کشمیر کی بین الاقوامی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔
پاکستانی قونصلر نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے متعدد اقدامات خود بھارت سے منسوب ہیں۔
صائمہ سلیم نےسندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق بھارتی فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے، اسے کسی صورت جنگ یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی سرگرمیاں عالمی سطح تک پھیل چکی ہیں، جبکہ بھارت میں ہندوتوا نظریات کے فروغ نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث مذہبی اقلیتوں کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا احترام ناگزیر ہے۔