سٹی 42 : پونچھ ڈویژن کے ہیڈکوارٹر راولاکوٹ میں بھارتی یوم جمہوریہ کے خلاف یوم سیاہ پر احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا ۔ 

 کشمیری عوام نے بھارتی یوم جمہوریہ 26 جنوری کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے راولاکوٹ میں ایک احتجاجی ریلی اور مظاہرے کا انعقاد کیا، جس میں سول سوسائٹی، مختلف محکمہ جات کے آفیسران اور اہلکاران نے بھرپور شرکت کی۔ 

شرکاء ریلی نے سیاہ جھنڈے اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ ریلی کے دوران بھارت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی گئی اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا گیا۔ 

پاکستان 2035 تک 1 ٹریلین ڈالر کی معیشت بن سکتا ہے، عالمی بینک

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بھارت نے کشمیری عوام پر مظالم ڈھا کر تمام انسانی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ مقررین نے بھارتی حکومت کے غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر میں جاری مظالم کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو ان کا جائز حق دلانے میں کردار ادا کرے۔
ریلی کے اختتام پر کشمیری عوام کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ کشمیری اپنی آزادی کی منزل تک جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ 

بزدار سرکار کی کارکردگی کا پول کھل گیا، اہم انکشافات سامنے آگئے

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: کشمیری عوام کیا گیا

پڑھیں:

طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری

افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

طالبان رجیم کے خلاف بغاوت   کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے  حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا  ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔

عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔  طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سید عباس عراقچی کا اپنے آذربائیجانی ہم منصب کے نام تہنیتی پیغام
  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • کینیڈا کے کثیر القومی کلچر کو بھارتی ڈانس کلچر کی یلغار کا سامنا، سماجی ماہرین نے خبردار کر دیا
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد