واشنگٹن:

اسٹار لنک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایلون مسک اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان 500 بلین ڈالر کے منصوبے کے معاملے پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسٹار لنک کے سی ای او ایلون مسک اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 500 بلین ڈالر کے مصنوعی ذہانت (AI) اقدام کے اعلان کے بعد ایک اہم دراڑ پیدا ہو گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والی دستایز کے مطابق منصوبے کا مقصد امریکا میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کا قیام ہے تاکہ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں امریکا کی پوزیشن مضبوط کرنا ہے۔

اس منصوبے کے تحت آریکل، اوپن اے آئی، سافٹ بینک بھی سرمایہ کاری کریں گے جس کے بعد ایک لاکھ ملازمتیں پیدا ہوں گی۔

اس حوالے سے وائٹ ہاؤس میں تقریب ہوئی اور ایلون مسک نے سوشل میڈیا پر اس منصوبے پر تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ اعلان کردہ فنڈنگ کے معاملے پر مبالاغہ آرائی کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کیلیے سافٹ بینک کے پاس 10 ارب ڈالر سے بھی کم رقم محفوظ ہے۔

مسک نے اس پروجیکٹ کو ناقابل اعتبار قرار دیا اور OpenAI کے سی ای او سیم آلٹمین پر حملہ کیا۔ جن کے ساتھ مسک کی اختلاف کی تاریخ ہے۔

واضح رہے کہ ایلون مسک نے 2015 میں OpenAI کی مشترکہ بنیاد رکھی لیکن تنظیم کی ہدایت پر تنازعات کے بعد 2018 میں چھوڑ دیا۔ 

ایلون مسک نے اے آئی کے سربراہ پر سنگین الزامات لگائے جس پر انہوں نے بھی جواب دیا۔ ٹیک انڈسٹری کے جائنٹس کی اس لڑائی کو مبصرین نے انتہائی خطرناک قرار دیا ہے کیونکہ اس سے براہ راست صارفین کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایلون مسک

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو بھی فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔

آج کاروبار کے پہلے نصف حصے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی کا شکار ہوگیا۔

دوپہر 12 بج کر 5 منٹ پرانڈیکس 170,475.30 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 1,264.14 پوائنٹس یعنی 0.74 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی کشیدگی سے سرمایہ کار محتاط، پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی سے دوچار

مارکیٹ میں فروخت کا رجحان آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں نمایاں رہا۔

حب پاور، اٹک ریفائنری لمیٹڈ، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک جیسے زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز مندی کے ساتھ کاروبار کرتے رہے۔

Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -1253.65 points (-0.73%) at midday trading. Index is at 170,485.8 and volume so far is 113.98 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/DtJJR8AXhS

— Investify Pakistan (@investifypk) July 24, 2026

جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید دباؤ کا شکار رہی تھی، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یعنی 1.54 فیصد کمی کے بعد 171,739.45 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی نے سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے باعث مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت دیکھنے میں آئی۔

عالمی منڈیوں میں بھی مندی

عالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعہ کو نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 100.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

گزشتہ روز اس میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور قیمت مختصر طور پر 102 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔

مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟

تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایران سے منسلک حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث سامنے آیا، جس سے عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے 60 تجارتی شراکت دار ممالک کی درآمدات پر مزید ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے نے بھی مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

مالیاتی منڈیوں میں یہ توقع بھی زور پکڑ رہی ہے کہ عالمی مرکزی بینک سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتے ہیں۔

سرمایہ کاروں کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ ہفتے ہی شرح سود میں اضافے کا امکان ایک تہائی تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ستمبر میں شرح سود بڑھانے کا امکان تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف

ادھر یورپی مرکزی بینک نے اگرچہ اپنی حالیہ میٹنگ میں شرح سود برقرار رکھی، تاہم مالیاتی منڈیوں میں ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔

ایشیائی منڈیوں میں ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں ایک فیصد، جاپان کے نکی انڈیکس میں 2.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آبنائے ہرمز آئل ٹینکر اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بحیرہ احمر پاکستان حبیب بینک حوثی سیمنٹ مانیٹری پالیسی میزان بینک نیشنل بینک

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر ‘اسکائی 47 قراقرم ون’ کا افتتاح کر دیا
  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا