ملتان، گیس ٹینکر دھماکے سے پھٹ گیا، 4 افراد جاں بحق، نشتر اسپتال میں ایمرجنسی نافذ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
ملتان:
فہد ٹاؤن کے علاقے حامد پور چوک میں ایل پی جی گیس سے بھرے ٹینکر میں دھماکے سے آگ لگنے کے نتیجے میں ہونے والی آتشزدگی سے 5 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ لگنے سے 4 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے جنہیں نشتر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور پانچ گھنٹے طویل آپریشن کے بعد آگ پر قابو پا لیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ کے باعث ٹینکر پھٹنے سے بستی حامد پور کے کچھ گھروں میں بھی آگ پھیل گئی، جس سے متعدد مکانات کو نقصان پہنچا اور گھروں کی چھتیں گر گئیں۔ بعض گھروں میں موجود مویشی بھی آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔
ریسکیو آپریشن میں 16 سے زائد گاڑیوں نے حصہ لیا، کولنگ کا عمل ابھی تک جاری ہے۔
دوسری جانب نشتر اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، نشتر اسپال کے ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈاکٹر زاہد کی زیر قیادت اضافی بستروں اور عملے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے 4 افراد جو اسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گئے، ان کی لاشیں بھی اسپتال پہنچا دی گئی ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے اور کولنگ کے عمل کے مکمل ہونے تک صورتحال کو کنٹرول کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔