سعودی عرب: مکہ، مدینہ میں رئیل اسٹیٹ کمپنیوں میں غیر ملکیوں کو سرمایہ کاری کی اجازت دینے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 27 January, 2025 سب نیوز

جدہ (آئی پی ایس )سعودی عرب کے مارکیٹ ریگولیٹر نے کہا ہے کہ 2 مقدس ترین مقامات مکہ اور مدینہ میں رئیل اسٹیٹ کی لسٹڈ کمپنیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دیں گے، اس کی وجہ مزید سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس اقدام سے غیر ملکیوں کو ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے مواقع ملیں گے، جن کی آمدنی کا انحصار اسلامی زیارت پر ہے، یہ تیل کی دولت سے مالا مال سلطنت کے لیے آمدنی کے سب سے بڑے ذرائع میں سے ایک ہے۔

کیپٹل مارکیٹ اتھارٹی (سی ایم اے) نے بیان میں کہا کہ یہ اقدام بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے اور اس سے دونوں شہروں میں موجودہ اور مستقبل کے منصوبوں کے لیے سرمایہ بھی حاصل کیا جاسکے گا۔سعودی عرب نے عازمین حج اور عمرہ کی تعداد 2030 تک بڑھا کر 3 کروڑ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سلطنت کو 2019 میں حج اور عمرے سے 12 عرب روپے کی آمدنی ہوئی تھی۔

حج ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور عازمین کی تعداد میں اضافہ اس کے ویژن 2030 اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد معیشت کا انحصار تیل کی آمدنی سے کم کرنا ہے۔سعودی عرب کے بینچ مارک انڈیکس میں 0.

2 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ جبل عمر ڈیولپمنٹ کمپنی اور مکہ کنسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی کے حصص کی مالیت کا 10 فیصد بڑھنا تھا۔

10.2 ٹریلین ریال (2.72 ٹریلین ڈالر) کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے ساتھ خلیجی عرب خطے کی سب سے بڑا اسٹاک ایکسچینج ہے، جسے مزید فنڈز راغب کرنے کے لیے 2015 میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کھولا گیاگیا، اس میں حالیہ برسوں کے دوران نئی کمپنیاں لسٹڈ ہوئی ہیں۔ کیپٹل مارکیٹ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری صرف حصص، قرض کے آلات، یا دونوں تک محدود ہو گی، اور اسٹریٹجک غیر ملکی سرمایہ کار اس میں شامل نہیں ہوں گے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کمپنیوں میں سرمایہ کاری

پڑھیں:

نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیے جانے کی توقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت پنجاب نے نوجوانوں کو آئندہ مالی سال میں الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال میں 50 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کہا کہ ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت دی جائے گی، رجسٹریشن سمیت دیگر مراعات بھی دی جائیں گی۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیئے جانے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر