اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 28 جنوری 2025ء) چین اور بھارت کے مابین پروازوں کا سلسلہ ابتدا میں کووڈ انیس کی وبا کے سبب روک دیا گیا تھا۔ پھر بعد میں بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان بگڑتے ہوئے تعلقات کی وجہ سے یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہی نہیں ہو پایا۔

بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فضائی خدمات دوبارہ شروع کرنے کا ایک اصولی معاہدہ طے پا گیا ہے۔

مزید یہ کہ متعلقہ تکنیکی حکام جلد از جلد اس مقصد کے لیے ایک تازہ ترین فریم ورک کے ساتھ ملاقات کریں گے اور اس بات چیت کو آگے بڑھائیں گے۔

چین تبت میں دنیا کا سب سے بڑا ہائیڈرو پاور ڈیم تعمیر کررہا ہے

بھارتی خارجہ سکریٹری کا دورہ بیجنگ

بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مصری دو روز قبل چین کے دورے پر بیجنگ پہنچے تھے، جہاں انہوں نے نائب چینی وزیر خارجہ سن ویڈونگ، وزیر خارجہ وانگ یی اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے بین الاقوامی محکمہ کے وزیر لیو جیان چاؤ سے ملاقات کی۔

(جاری ہے)

ان ملاقاتوں کے اختتام پر دونوں ممالک نے رواں برس گرمیوں میں کیلاش مانسروور یاترا دوبارہ شروع کرنے اور دونوں دارالحکومتوں کے درمیان براہ راست پروازوں کی بحالی پر اتفاق کیا۔

بھارت اور چین میں سرحدی تجارت دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق

کیلاش مانسروور یاترا

واضح رہے کہ کیلاش مانسروور کی یاترا پہاڑ کیلاش اور تبت میں مانسروور جھیل کی ایک مذہبی یاترا ہے، جو ہندوؤں، جینوں، تبتیوں اور بون مذہب کے پیروکاروں کے لیے بہت ہی مقدس زیارت سمجھی جاتی ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے سبب کئی برسوں سے بھارتی پیروکار یاترا سے محروم رہے ہیں۔

نئی دہلی میں وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ صحافیوں اور تھنک ٹینکس کے لیے ویزا جاری کرنے اور سرحد پار دریاؤں کے ڈیٹا کو شیئر کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ اس سے قبل دسمبر میں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈؤوال نے بیجنگ کا دورہ کیا تھا اور تب بھی دونوں ملکوں نے باہمی رشتوں کو بہتر کرنے پر زور دیا تھا۔

چینی وزیر خارجہ اور بھارتی قومی سلامتی مشیر کے مابین آج اہم بات چیت

بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان میل جول کی کوشش

بھارتی میڈیا اداروں کی رپورٹس کے مطابق کووڈ وبا سے پہلے چین اور بھارت کے درمیان ماہانہ تقریباً 500 براہ راست پروازیں اڑا کرتی تھیں۔ پھر سن 2020 کے وسط میں ہمالیائی خطہ لداخ کی وادی گلوان کے پاس ایک متنازعہ سرحد پر چین اور بھارتی فوجیوں کے درمیان خونریز جھڑپ کے سبب کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔

فوجیں لڑائیاں لیکن معشتیں جنگیں جیتتی ہیں، نیٹو عہدیدار

اس واقعے کے بعد سے بھارت نے چین کے لیے مسافروں کی پروازوں کو باضابطہ طور پر بند کر دیا اور ٹک ٹاک سمیت متعدد چینی ایپس پر پابندی لگانے کے ساتھ ہی ملک میں چینی سرمایہ کاری کو بھی بڑی حد تک محدود کر دیا تھا۔ گرچہ بعد ازاں بھارت اور ہانگ کانگ کے درمیان فضائی رابطہ بحال ہو گیا تھا، لیکن سرزمین چین کے لیے پروازیں ابھی تک بند ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ نے پیر کو پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے معاہدے کا خاص طور پر ذکر نہیں کیا، تاہم ایک بیان میں کہا کہ دونوں ممالک گزشتہ سال سے ہی اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ چین بھارت تعلقات کی بہتری اور ترقی دونوں ممالک کے بنیادی مفاد میں ہے۔

ص ز/ ج ا (اے ایف پی، روئٹرز)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دونوں ممالک اور بھارت کے درمیان نئی دہلی کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا