حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) پاکستان سنی تحریک کے سینئر مرکزی نائب صدر محمد خالد قادری نے اپنے بیان میں اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں 200 فیصد سے زائد اضافے کی مذمت کرتے ہوئے اسے قومی خزانے پر بوجھ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام پر نت نئے ٹیکسز لگا کر یوٹیلیٹی بلز میں اضافہ کرکے عوام کا خون نچوڑ کر اپنی شاہ خرچیاں پوری اور اراکین اسمبلی کو نواز رہی ہے، قوم کو یہ بھی بتایا جائے کہ ہر صوبائی و قومی اسمبلی کو ہر ماہ کیا سہولیات دی جاتی ہیں؟ سالانہ ترقیاتی بجٹ کتنا دیا جاتا ہے؟ تاکہ عوام کو پتہ چلے کہ ایک ممبر انہیں ہر ماہ کتنے میں پڑتا ہے؟ عوام کے خون پسینے کی کمائی کو جبراً ٹیکسز کے ذریعے لے کر سیاسی جماعتوں کو نوازا جا رہا ہے، عوام کا نام نہاد درد رکھنے والے اراکین اسمبلی بے نقاب ہو گئے، کسی سیاسی جماعت کے رکن یا قائد نے یہ نہیں کہا کہ اضافہ نہ کیا جائے، پاکستان قرضے میں ڈوبا ہوا ہے، عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے، انہیں ریلیف دے دو، حکومت کو بھی پاکستان پر قرضے اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی عوام نظر نہیں آتی۔ محمد خالد قادری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اراکین اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹریوں کی تنخواہوں، مراعات میں اضافہ فوری واپس، عوام کو یوٹیلیٹی بلز میں ٹیکسز سے نجات دلائی جائے اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اراکین اسمبلی

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم