مراد علی شاہ اور بلاول بھٹو یہ بتائیں لیاری امن کمیٹی کے نام پر بھتہ کون لیتا تھا؟ منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت نے جس طرح میکنزم بنایا ہے اس کا جواب تو دینا ہوگا، ایس بی سی اے اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے محکمے بھتے کا گڑھ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ کراچی کے تاجر چغلی نہ کریں، مگر مراد علی شاہ اور بلاول بھٹو زرداری یہ بھی بتائیں کہ لیاری امن کمیٹی کے نام پر بھتہ کون لیتا تھا؟۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ ایک وقت تھا جب بھتہ خوری عروج پر تھی مراد علی شاہ اور بلاول بھٹو یہ بھی بتائیں لیاری امن کمیٹی کے نام پر بھتہ کون لیتا تھا؟ منعم ظفر خان نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت نے جس طرح میکنزم بنایا ہے اس کا جواب تو دینا ہوگا، ایس بی سی اے اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے محکمے بھتے کا گڑھ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔