امریکا میں مسافر طیارے اور فوجی ہیلی کاپٹر میں ٹکر، ہلاکتوں کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
امریکا میں واشنگٹن ائیرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے، جس سے متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی ایئر لائن کی پرواز کینساس کے شہر وکیٹا سے واشنگٹن پہنچی تھی جہاں طیارے کو دریائے پوٹومیک کے اوپر رن وے کے قریب حادثہ پیش آیا۔ فلائٹ ریڈار کے مطابق حادثہ شام 5 بج کر 48 منٹ پر پیش آیا، جب طیارے کی رفتار 166 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی۔
مزید پڑھیں: آذربائیجان طیارہ حادثہ: طویل سیاسی بحثوں میں پڑگیا
ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارے میں 78 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جو فوجی ہیلی کاپٹر سے ٹکرانے کے بعد پوٹومیک دریا میں گرگیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ طیارے میں 64 مسافر سوار تھے، حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔
طیارے سے ٹکرانے والے فوجی ہیلی کاپٹر میں 3 اہلکار سوار تھے، حادثے کے بعد ریگن نیشنل ایئر پورٹ پر تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی فضائی حادثے سے آگاہ کردیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ڈونلڈ ٹرمپ طیارہ حادثہ ہیلی کاپٹر واشنگٹن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ڈونلڈ ٹرمپ طیارہ حادثہ ہیلی کاپٹر واشنگٹن فوجی ہیلی کاپٹر
پڑھیں:
امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔
U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔