جھنگ: ٹریفک وارڈن کا رکشہ ڈرائیور پر تشدد، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT
اویس خان: جھنگ میں ایک شاہراہ پر ٹریفک وارڈن عابد حسین کا رکشہ ڈرائیور سے تلخ کلامی کا واقعہ پیش آیا جس کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
وڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ٹریفک وارڈن نے رکشہ ڈرائیور سے تلخ کلامی کے بعد اسے تھپڑ مارا۔
واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او کیپٹن (ر) بلال افتخار کیانی نے ٹریفک وارڈن عابد حسین کو فوری طور پر معطل کر دیا۔ ٹریفک وارڈن عابد حسین کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
لاہور سمیت پنجاب میں قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز 3فروری سے ہوگا
ڈی پی او بلال افتخار کیانی نے کہا کہ کسی بھی شہری کے ساتھ ناروا سلوک کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی شہری کی عزت نفس کو مجروح ہونے نہیں دیا جائے گا اور ایسی کارروائیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ٹریفک وارڈن
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک