ڈی آئی خان(نیوز ڈیسک)بلوچستان سے ملحقہ خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوئے بم دھماکے میں بلوچستان لیویز فورس کے چار اہلکاراور ڈرائیور شہید ہوگئے۔ انتظامیہ کے مطابق واقعہ کلاچی موڑ کے مقام پر پیش آیا۔ گاڑی کو بم دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جس کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی اور گاڑی میں سوار پانچوں افراد جھلس گئے۔شہدا میں ضلع پشین کی تحصیل خانوزئی کی لیویز فورس کے نائب رسالدار نور احمد کاکڑ، سپاہی رشید زمان، سپاہی داؤد خان، سپاہی بلال احمد اور گاڑی کا سویلین ڈرائیور شامل ہے۔لیویز کے مطابق نشانہ بننے والے اہلکار ایک ٹرک چوری کے کیس میں ڈیرہ اسماعیل خان جا رہے تھے۔

لیویز کے مطابق تیرہ جنوری کو ایک ٹرک چوری ہوا تھا جسے ڈیرہ اسماعیل خان پولیس نے برآمد کرکے خانوزئی لیویز کو اطلاع دی تھی۔ نائب رسالدار نور احمد ٹرک وصول کرنے کے لیے ہفتے کی صبح خانوزئی سے نجی گاڑی میں تین سپاہیوں اور ڈرائیور کے ہمراہ روانہ ہوئے تھے، تاہم راستے میں نامعلوم ملزمان کی جانب سے ان پر حملہ ہوگیا۔دھماکے سے پہلے گاڑی پر فائرنگ بھی کی گئی تھی۔ پشین لیویز کے مطابق لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد بلوچستان منتقل کیا جائے گا۔

لاس اینجلس میں خوفناک آگ پر3ہفتوں بعدقابو پالیاگیا، نقصانات کا تخمینہ 275 ارب ڈالر تک پہنچ گیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ڈیرہ اسماعیل خان

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد