چین، میکسیکو اور کینیڈا کے بعد جاپان نےامریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی ٹیرف پالیسی پر تحفظات کا اظہار کر دیا  ۔
جاپان کے وزیرخارجہ کٹسونوبو کٹو نے امریکا کی نئی ٹیرف پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدام سے پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوسکتی ہے جاپان کو بھی امریکا کی ٹیرف پالیسی پر تحفظات ہیں،جاپان کو امریکی پالیسیوں اور ان کے اثرات کو پرکھنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکا نے اپنی “امریکہ فرسٹ” پالیسی کے تحت بین الاقوامی تجارت میں سخت اقدامات کیےہیں جن میں اسٹیل، ایلومینیم اور دیگر مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کرنا شامل تھا۔ یہ ٹیرف پالیسیاں خاص طور پر چین، میکسیکو، کینیڈا اور یورپی یونین کو نشانہ بنارہی ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھاری ٹیرف کے نتیجے میں عالمی سطح پر تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ان اقدامات کا مقصد امریکی صنعتوں کو تحفظ دینا تھا لیکن اس کے ردعمل میں کئی ممالک نے تحفظات کا اظہار کیا جس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
اس سے قبل چین، میکسیکو اور کینیڈا بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی ٹیرف پالیسی پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں جاپان امریکا کا قریبی اتحادی نے بھی ان پالیسیوں پر تشویش کا ظہار کیا ہے یہ اقدامات نہ صرف عالمی منڈیوں بلکہ جاپانی برآمدات پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی نئی ٹیرف پالیسی پر تحفظات کا اظہار ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ کی

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل