فائروال اور ویب مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
درخواست میں یہ اعتراض بھی اُٹھایا گیا ہے کہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے، فائر وال لگانے اور ویب مینجمنٹ سسٹم کیلئے وفاقی کابینہ سے کوئی منظوری نہیں لی گئی۔ جوڈیشل ایکٹوازم پینل نے درخواست میں یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ فائر وال اور ویب مینجمنٹ سسٹم کو انٹرنیٹ کیلئے استعمال کرنا آئین کے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ فائروال اور ویب مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت اور پی ٹی اے کو جواب جمع کروانے کیلئے 2 ہفتوں کی مہلت دیدی۔ جسٹس چودھری محمد اقبال نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں انٹرنیٹ سروس پر فائر وال لگانے اور ویب مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں یہ اعتراض بھی اُٹھایا گیا ہے کہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے، فائر وال لگانے اور ویب مینجمنٹ سسٹم کیلئے وفاقی کابینہ سے کوئی منظوری نہیں لی گئی۔ جوڈیشل ایکٹوازم پینل نے درخواست میں یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ فائر وال اور ویب مینجمنٹ سسٹم کو انٹرنیٹ کیلئے استعمال کرنا آئین کے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ اس لیے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وال اور ویب مینجمنٹ سسٹم درخواست میں یہ فائر وال
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔