مالکان کی ڈانٹ سے ناراض ملازمہ کا 3 ماہ کے بچے پر تشدد، ویڈیو منظر عام پر
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)لاہور میں مالکان کی ڈانٹ ڈپٹ سے ناراض ملازمہ نے غصہ 3 ماہ کے بچے پر نکال دیا۔پولیس کے مطابق لاہور میں شمالی چھاؤنی کے علاقے میں واقع گھر میں مالکان کی ڈانٹ ڈپٹ پر گھریلو ملازمہ غصہ نومولود بچے پر نکالتی رہی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملازمہ کو بچے کے چہرے پر کپڑا رکھ کر سانس بند کرنے کی کوشش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
بچے کے والد مطلوب ظفر کی جانب سے دائر کی گئی ایف آئی آر کے مطابق بچوں کی دیکھ بھال کے لیے رکھی گئی 30 سالہ ملازمہ صائمہ 3 ماہ کے بچے کو تشدد کا نشانہ بناتی رہی۔بچے کے رونے پر اسے تھپڑ مارے۔ بچے کی طبیعت خراب ہونے پر والدین نے کلوز سرکٹ فوٹیج میں تشدد دیکھ لیا۔ والدین کو تشدد کا علم ہونے پر ملازمہ زیورات اور رقم چوری کر کے فرار ہوگئی۔
شادی ہال میں گھر والوں کا جھگڑا، دُلہا دُلہن نے پولیس اسٹیشن پہنچ کر شادی رچالی
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔