امریکی خاتون کی حرکتیں اور رویہ دیکھ کر غیرملکی بھی حیران، پاکستانیوں کو انتہائی ’صابر‘ قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک)محبت میں ناکام امریکی خاتون اونیجا اینڈریو رابنسن پاکستان میں خبروں کی زینت بننے کے بعد اب امریکہ میں بھی سوشل میڈیا پر مشہور ہوگئی ہیں۔ امریکی سوشل میڈیا صارفین پاکستانیوں کی اونیجا کی میزبانی اور اونیجا کے جوابی سلوک پر حیران ہیں۔
امریکی خاتون اونیجا جو کہ اس وقت کراچی کے جناح اسپتال کے شعبہ نفسیات میں زیر علاج ہیں اور ذہنی مریضہ قرار دی جاچکی ہیں، اپنے عجیب مطالبات اور حرکتوں کی وجہ سے صرف سوشل میڈیا ہی نہیں بلکہ مین اسٹریم میڈیا پرت بھی سرخیوں میں ہیں۔
کبھی ان کا سماجی کارکن رمضان چھیپا کو ڈانٹنا وائرل ہوا تو کبھی ان کی برگروں کی فرمائشیں اور اسپتال سے ٹک ٹاک ویڈیوز وائرل ہوئیں۔ ایک طرف وہ پاکستان سے جانے کو تیار نہیں ہیں تو دوسری جانب ان کی حفاظت کیلئے پولیس کی دوڑیں لگی ہوئی ہیں۔
یہ تمام ویڈیوز جب ان کے اپنے ہم وطنوں تک پہنچیں تو وہ اونیجا کا رویہ دیکھ کر حیران گئے۔
ٹک ٹاک پر ایلکس نامی خاتون نے ویڈیوز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کو کبھی اتنا بدتمیز اور وہم میں مبتلا ہونے کے باوجود اس کی اتنی آؤبھگت کرتے نہیں دیکھا۔ انہوں نے پاکستانیوں کو ’سنت‘ قرار دیا۔
ٹرز رینٹس نامی ہینڈل کے صارف نے اپنی ٹک ٹاک ویڈیو میں کہا کہ پاکستانیوں نے خود کو تاریخ کی کتاب میں روئے زمین پر سب سے میزبان قوم کے طور پر درج کرالیا ہے، جس طرح وہ خاتون کا گلی میں ملنے والے بلی کے بچے کی طرح خیال رہکھ رہے ہیں وہ قابل تعریف ہے، ہماری حکومت نے جو پاکستانیوں کی تصویر بنائی ہوئی ہے اس کے برعکس آپ لوگ بہت اچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خاتون تباہی ہیں، آپ لوگ انہیں رکھ لیں ہمیں یہ واپس بھی نہیں چاہئیں۔
آئیلینڈ بلٹز نامی ٹک ٹاک صارف نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام انتہائی صابر اور بااخلاق ہیں اور یہ خاتون انہیں پیس رہی ہیں، ان سے پیسے اور زمین مانگ رہی ہیں اور پاکستانی بس ’چِل‘ کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ خاتون بھارت میں ہوتیں تو ان کے ساتھ ایسا رویہ ہرگز نہیں رکھا جاتا۔
اسی طرح یوکے تھانوس نامی ٹک ٹاک صارف نے کہا کہ اگر یہ خاتون امریکہ یا برطانیہ میں اس طرح کی حرکتیں کرتیں تو انہیں پہلے قید کیاجاتا اور پھر اگلی فلائٹ سے ملک بدر کردیا جاتا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: یہ خاتون ٹک ٹاک کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔