رائیونڈ پولیس کے کانسٹیبل سمیت دیگر افراد نے مبینہ طور پر بیوہ خاتون سے زیادتی، تشدد کرکے  اس کی  برہنہ ویڈیو بنالی۔ 

رپورٹ کے مطابق لاہور پولیس نے متاثرہ بیوہ خاتون کی درخواست پر خاتون سے زیادتی کا مقدمہ درج کرلیا، واقعہ کا مقدمہ نمبر 921/25 تھانہ رائے ونڈ سٹی میں درج کیا گیا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق شراب کے نشے میں دھت اہلکاروں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، پولیس اہلکاروں نے تشدد کیا اور برہنہ کرکے ویڈیوز بناتے رہے۔

پولیس حکام  نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں، واقعے میں ملوث ایک کانسٹیبل کو حراست لےلیا گیاہے، معاملے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کررہےہیں، ذمہ داروں کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون نے پولیس میں شکایت درج کرائی تھی، درخواست کے متن کے مطابق ملزمان خاتون کی بیٹی اور بھانجی سے ریپ کرتے اور ویڈیو بناتے رہے،  پولیس ملازم ساتھیوں کے ہمراہ خواتین اور اہلخانہ پر تشدد کی ویڈیو بھی بناتا رہا۔

درخواست  کے متن کے مطابق پولیس ملازم قانونی کاروائی کرنے پر برہنہ ویڈیو وائرل کرنے دھمکیاں دیتا رہا، پولیس ملازم اور اس کے ساتھی جسم فروشی کرنے کا بھی الزام لگاتے رہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا کہ واقعہ میں ملوث ایک مرکزی ملزم گرفتار کر لیا گیا، واقعہ میں ملوث کانسٹیبل کو معطل کرکے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

فیصل کامران نے کہا کہ ملوث کانسٹیبل کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی جاری ہے، دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے جاری ہیں۔

بعد ازاں پولیس نے معاملے میں ملوث ملزمان  کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 3ملزمان کو گرفتار کرلیا، ملزم ابوبکر ولد خالد، سہیل ولد یوسف، ثقلین ولد صادق گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

حکام نے کہا کہ واقعے میں نامزد پولیس اہلکار ارسلان اور پرائیوٹ ملزم عاطف کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں، تمام ملزمان مقامی ہیں، تعلق مکو والی گاؤں سے ہے، ابتدائی رپورٹ کے برعکس پولیس اہلکار ذاتی حیثیت میں جائے وقوعہ پر گیا تھا۔

ابتدائی رپورٹ کے برعکس پولیس نے نہ ہی چھاپہ مارا نہ ہی واقعہ دوران چھاپہ پیش آیا، ابتدائی رپورٹ میں دو پولیس اہلکاروں کا رپورٹ ہوا تاہم درخواست مقدمہ میں ایک اہلکار نامزد ہے، سنگین واقعے کی فوری اطلاع اعلی افسران کو نہ دینے پر چوکی انچارج بھی معطل کیا جا چکا۔

واقعہ کی تمام کارروائی کی نگرانی ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران خود کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ شہری ہوں یا پولیس اہلکار، قانون سے کوئی بالاتر نہیں، قانون ہاتھ میں لینے، شہریوں سے ذیادتی کرنے والے کسی رعائیت کے مستحق نہیں۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل پولیس اہلکار نے کہا کہ میں ملوث کے مطابق رپورٹ کے

پڑھیں:

ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق

فائل فوٹو۔

ولیکا اسپتال کراچی میں ایچ آئی وی کا ایک اور نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق 18 ماہ کے بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔ 

اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 95 ہوگئی ہے۔ 

بچے کے والد کے مطابق 18 ماہ کا عبد الصمد دسمبر 2025 میں ولیکا اسپتال میں زیر علاج تھا، مسلسل طبیعت خراب رہنے پر بچے کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروایا۔

والد کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کروانے پر بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ میرے 5 بچے ہیں، باقی بچوں کے بھی ٹیسٹ کروائیں گے۔

اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی سے اب تک 9 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق