حسینہ واجد اپنے والد کا گھر جلتا ہوا دیکھ کر زار و قطار رو پڑیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
بنگلادیش کی سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد ڈھاکا میں اپنا آبائی گھر نذر آتش ہونے کی ویڈیو دیکھ کر رو پڑیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شیخ حسینہ واجد نے آبائی گھر جلنے کی ویڈیو دیکھ کر ایک جذباتی پیغام جاری کیا ہے۔
بنگلادیش کی سابق وزیراعظم نے کہا کہ گھر جلائے جا سکتے ہیں، گرائے جا سکتے ہیں لیکن تاریخ نہیں مٹائی جا سکتی۔ وہ ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
شیخ حسینہ واجد نے کہا کہ اپنے خاندان میں سے صرف میں اور میری بہن زندہ بچ سکیں اور ہمارے پاس اپنے والدین کی واحد یادیں یہ گھر تھا۔
یہ خبر پڑھیں : بنگلا دیشی عوام کا شیخ مجیب کی یادگار اور رہائش گاہ پر دھاوا، توڑ پھوڑ کے بعد آگ لگادی
شیخ حسینہ واجد نے روتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے پہلے ہمارے گھر کو آگ لگائی اور اس سے بھی دل نہ بھرا تو اسے گرا دیا۔
بنگلادیش کی سابق وزیراعظم نے کہا کہ آخر یہ لوگ ہمارے گھر سے اتنا خوف زدہ کیوں ہیں؟ انھیں کس بات کا ڈر ہے۔
بنگلادیش کی سابق وزیراعظم نے روہانسی ہوکر سوال کیا کہ کیا میں نے اپنے ملک کے لیے کچھ نہیں کیا تو پھر کون ہے جس نے ہمارا گھر جلایا۔ مجھے انصاف چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بنگلادیش کی سابق شیخ حسینہ واجد
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔