WE News:
2026-07-24@13:46:42 GMT

خضدار سے اغوا ہونے والی لڑکی بازیاب، 16 مشتبہ افراد گرفتار

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT

خضدار سے اغوا ہونے والی لڑکی بازیاب، 16 مشتبہ افراد گرفتار

جمعرات کی شب بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے شہزاد سٹی سے اغوا ہونے والی عاصمہ بی بی کو 2 روز بعد بازیاب کروالیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر دشتی نے ’وی نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ مغویہ کو خضدار تحصیل زہری سے بازیاب کرایا گیا۔ مختلف دشوار گزار علاقوں میں 20 سے 25 چھاپے مارے گئے۔ چھاپوں کے دوران 16 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جن سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔ ایف آئی آر میں نامزد دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔ مغویہ کو جلد اہل خانہ کے حوالے کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں خضدار سے لڑکی کا اغوا اور لواحقین کا احتجاج، معاملہ کیا ہے؟

خضدار پولیس کے مطابق مغویہ کے اہل خانہ تاحال سراپا احتجاج ہیں، لواحقین نے احتجاجاً کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو آمدورفت کے لیے بند کر رکھا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خضدار سے اغوا ہونے والی خاتون کے واقعے پر سخت ترین ایکشن لینے کے احکامات جاری کیے تھے۔

اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہاکہ بحیثیت وزیر اعلیٰ ذاتی طور پر اس سانحے کی تفتیش کی نگرانی کررہا ہوں۔ آئی جی پولیس کو واضح ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ ملوث ملزمان کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی، حکومت مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے، ظالم انجام کو پہنچے گا۔

یہ بھی پڑھیں مظفرآباد: خواتین سمیت 8 افراد نے نوجوان کو اغوا کیوں کیا؟

واضح رہے کہ مغویہ کے اہل خانہ نے بااثر قبائلی شخصیت پر الزام عائد کیا تھا کہ شادی سے انکار پر ان کی بچی کو گھر میں گھس کر اسلحے کے زور پر اغوا کیا گیا تھا۔ بچی کے اغوا کے خلاف اہل خانہ کا احتجاجی دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بازیاب بلوچستان خضدار سرفراز بگٹی قبائلی شخصیت لڑکی اغوا وزیراعلیٰ بلوچستان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بازیاب بلوچستان سرفراز بگٹی قبائلی شخصیت لڑکی اغوا وزیراعلی بلوچستان وی نیوز اہل خانہ

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران قدیم مجسمے دریافت
  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری