WE News:
2026-06-03@07:03:53 GMT

خضدار سے اغوا ہونے والی لڑکی بازیاب، 16 مشتبہ افراد گرفتار

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT

خضدار سے اغوا ہونے والی لڑکی بازیاب، 16 مشتبہ افراد گرفتار

جمعرات کی شب بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے شہزاد سٹی سے اغوا ہونے والی عاصمہ بی بی کو 2 روز بعد بازیاب کروالیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر دشتی نے ’وی نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ مغویہ کو خضدار تحصیل زہری سے بازیاب کرایا گیا۔ مختلف دشوار گزار علاقوں میں 20 سے 25 چھاپے مارے گئے۔ چھاپوں کے دوران 16 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جن سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔ ایف آئی آر میں نامزد دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔ مغویہ کو جلد اہل خانہ کے حوالے کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں خضدار سے لڑکی کا اغوا اور لواحقین کا احتجاج، معاملہ کیا ہے؟

خضدار پولیس کے مطابق مغویہ کے اہل خانہ تاحال سراپا احتجاج ہیں، لواحقین نے احتجاجاً کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو آمدورفت کے لیے بند کر رکھا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خضدار سے اغوا ہونے والی خاتون کے واقعے پر سخت ترین ایکشن لینے کے احکامات جاری کیے تھے۔

اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہاکہ بحیثیت وزیر اعلیٰ ذاتی طور پر اس سانحے کی تفتیش کی نگرانی کررہا ہوں۔ آئی جی پولیس کو واضح ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ ملوث ملزمان کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی، حکومت مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے، ظالم انجام کو پہنچے گا۔

یہ بھی پڑھیں مظفرآباد: خواتین سمیت 8 افراد نے نوجوان کو اغوا کیوں کیا؟

واضح رہے کہ مغویہ کے اہل خانہ نے بااثر قبائلی شخصیت پر الزام عائد کیا تھا کہ شادی سے انکار پر ان کی بچی کو گھر میں گھس کر اسلحے کے زور پر اغوا کیا گیا تھا۔ بچی کے اغوا کے خلاف اہل خانہ کا احتجاجی دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بازیاب بلوچستان خضدار سرفراز بگٹی قبائلی شخصیت لڑکی اغوا وزیراعلیٰ بلوچستان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بازیاب بلوچستان سرفراز بگٹی قبائلی شخصیت لڑکی اغوا وزیراعلی بلوچستان وی نیوز اہل خانہ

پڑھیں:

بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی

گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ