اسلام آباد وکلا احتجاج کی کال، ریڈ زون کے داخلی راستے بند کر دیئے گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وکلا کے احتجاج کی کال کے پیش نظر پولیس کی جانب سے ریڈ زون کے داخلی راستے بند کر دیئے گئے۔
رپورٹ کے مطابق سرینا چوک ایکسپریس چوک نادرا چوک سے ریڈ زون انٹری بند کر دی گئی، ریڈ زون بند کرنے کے باعث ٹریفک روانگی متاثر گاڑیوں کی رش لگ گئی، مارگلہ روڈ سے ریڈ زون داخلے کیلئے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ سمیت ریڈ زون دفاتر جانے والے شہری بھی رل گئے۔
وفاقی دارالحکومت کی ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا کہ شہر میں لا اینڈ آرڈر کی صورت میں ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے بند ہوں گے۔
اسلام آباد کی ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا کہ 10 فروری 2025 کو لا اینڈ آرڈر کی صورت میں ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے بند رہیں گے۔
ٹریفک پولیس نے کہا کہ ریڈزون کے داخلی اور خارجی راستے سرینا، نادرا، میریٹ، ایکسپریس چوک اورٹی کراس بری امام صبح 6 بجے سے تاحکم ثانی عارضی طور پر بند ہوں گے۔
پولیس نے کہا کہ عوام الناس سے گزارش ہے کہ کسی بھی سفری دشواری سے بچنے کے لیے متبادل کے طور پر مارگلہ روڈ استعمال کر سکتے ہیں تاہم اسلام آباد ٹریفک پولیس آپ کی رہنمائی کے لیے مصروف عمل ہے۔
ٹریفک پولیس نے شہریوں سے کہا کہ مزید معلومات کے لیے ٹریفک ہیلپ لائن نمبر 1915 اور اسلام آباد ٹریفک پولیس کے دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے رہنمائی لیں۔
وفاقی دارالحکومت کی ٹریفک پولیس نے کہا کہ ریڈزون میں صرف مار گلہ روڈ سے داخلے کا راستہ دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریڈ زون کے داخلی ٹریفک پولیس اسلام آباد راستے بند پولیس نے کہا کہ
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔