پاکستان اڑان بھرنے کیلئے تیار، پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے: احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
ویب ڈیسک: وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر اڑان بھرنے کو تیار ہے، ملکی ترقی کیلئے پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔
لاہور میں نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ جو اکنامک زونز ہم نے 2020میں تیار کرنے تھے ہم 2022میں آئے تو ایک بھی تیار نہیں ہوا تھا ، جب ہم حکومت میں آئے تو دنیا میں شرطیں لگ رہی تھیں کہ پاکستان 6ہفتوں میں سری لنکا بن جائے گا۔
نواز شریف نے آج مسلم لیگ ن لاہور کا اجلاس بلا لیا
احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے دلیرانہ طریقے سے فیصلے کیے، پاکستان آج دوبارہ ٹرن آراؤنڈ پر آگیا ہے، مہنگائی 38فیصد سے 4فیصد پرآگئی ہے، پالیسی ریٹ 12فیصد پر آگیا ہے، سٹاک مارکیٹ نئے ریکارڈ قائم کررہی ہے، ملک ایک بار پھر اڑان بھرنے کیلئے تیار ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا اس اڑان کا حشر بھی پچھلی اڑانوں جیسا کرنا ہے؟ ہمیں اپنے اطوار بدلنا ہوں گے، امن ،استحکام ،پالیسی کا تسلسل اور اصلاحات پر عمل کرنے کا عزم بہت ضروری ہے، ہم نےاگلے سنگ میل پر نظر رکھنی ہے۔
تکنیکی اور آپریشنل وجوہات ، اندرون و بیرون ملک جانیوالی متعدد پروازیں منسوخ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: احسن اقبال
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔