WE News:
2026-06-03@04:35:01 GMT

ویگن غذا کیا ہے، یہ بچوں پر منفی اثرات کیسے ڈالتی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

ویگن غذا کیا ہے، یہ بچوں پر منفی اثرات کیسے ڈالتی ہے؟

دنیا بھر میں ویگن غذا کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور خاص طور پر نوجوانوں اور بچوں میں اس کا پھیلاؤ تیز ہو رہا ہے۔ ویگن غذا میں گوشت، مچھلی، دودھ اور انڈے شامل نہیں ہوتے اور اس کی بجائے پھل، سبزیاں، اناج، دالیں اور دیگر پودوں پر مبنی غذائیں شامل کی جاتی ہیں۔ تاہم بچوں کے لیے اس غذا کے فوائد اور خطرات پر ماہرین کی رائے مختلف ہے اور کچھ ماہرین اس پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا واقعی روزانہ سیب کھانے سے ڈاکٹر سے دور رہا جا سکتا ہے؟

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت کے لیے ویگن غذا کے کئی فوائد ہیں۔ غذائی ماہرین نے بتایا کہ ویگن غذا میں دل کی صحت کے لیے فائدہ مند اجزا شامل ہوتے ہیں جیسے کہ فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس۔ ان اجزا کی موجودگی دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر، اور کولیسٹرول کے مسائل کو کم کر سکتی ہے۔

ویگن غذا وزن کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے اور اس سے ذیابیطس ٹائپ 2 کے خطرات بھی کم ہو سکتے ہیں۔ سبزیاں، پھل اور دالیں قدرتی طور پر کیلوریز میں کم اور غذائیت میں زیادہ ہوتی ہیں۔

ویگن غذا کے خطرات

اگرچہ ویگن غذا کے فوائد بے شمار ہیں لیکن اس کے ساتھ کچھ خطرات بھی ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویگن غذا میں بعض اہم وٹامنز اور معدنیات کی کمی ہو سکتی ہے جو بچوں کی نشوونما اور صحت کے لیے ضروری ہیں۔

ویگن غذا میں وٹامن بی 12 کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ یہ وٹامن بنیادی طور پر جانوری مصنوعات میں پایا جاتا ہے اور اس کی کمی بچوں میں نیورولوجیکل مسائل، تھکاوٹ اور انیمیا کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ویگن بچوں کے والدین کو وٹامن بی 12 کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سپلیمنٹس یا فورٹیفائیڈ غذاؤں کا استعمال کرنا چاہیے۔

ویگن غذا میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کی کمی بھی ہو سکتی ہے جو دماغی صحت کے لیے اہم ہیں۔ یہ فیٹی ایسڈز عام طور پر مچھلی میں پائے جاتے ہیں، تاہم ویگن افراد ان کا متبادل لینس کی بیج، چیا سیڈز اور وٹامن B12 کے سپلیمنٹس کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔

ان غذاؤں میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی بھی ایک عام مسئلہ ہے جو ہڈیوں کی صحت کے لیے ضروری ہیں۔ کیلشیم کے لیے ویگن افراد کو سبزیوں، پھلوں اور فورٹیفائیڈ پلانٹ بیسڈ مصنوعات کا استعمال کرنا چاہیے جبکہ وٹامن ڈی کے لیے سورج کی روشنی ضروری ہے۔

ویگن بچوں میں غذائی کمی

سنہ2016  اور سنہ 2017 میں کچھ ویگن بچوں کے بارے میں خبریں آئیں جنہیں شدید غذائی کمی کا سامنا تھا جس کے باعث ان کی صحت متاثر ہوئی۔

مزید پڑھیے: گرمی کے باعث تھکن، ہیٹ اسٹروک میں کیا کرنا چاہیے؟

مثال کے طور پر اٹلی کے ایک بچے میں کیلشیم کی کمی کی وجہ سے صحت کے مسائل پیدا ہوئے۔ اس کے علاوہ، بیلجیئم میں ایک 7 ماہ کے بچے کی موت بھی ویگن غذا کی غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے ہوئی۔ ان واقعات نے ویگن غذا کے بارے میں مزید احتیاطی تدابیر اپنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

ویگن بچوں کی نشوونما

ماہرین کے مطابق ویگن غذا کے اثرات بچوں کی نشوونما پر بھی ہو سکتے ہیں۔

حالیہ تحقیق کے مطابق ویگن بچوں کی قد اور ہڈیوں کی کثافت معمولی طور پر کم ہو سکتی ہے۔

اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ویگن بچوں کا قد 3،4 سینٹی میٹر کم ہو سکتا ہے اور ان کی ہڈیوں کی معدنی کثافت 6 فیصد کم ہو سکتی ہے جو مستقبل میں آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کی کمزوری) کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

ویگن غذا کے لیے احتیاطی تدابیر

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک درست طریقے سے منصوبہ بندی کی گئی ویگن غذا بچوں کے لیے محفوظ ہو سکتی ہے۔ ضروری وٹامنز اور معدنیات کو پورا کرنے کے لیے سپلیمنٹس، فورٹیفائیڈ غذائیں اور مختلف قسم کی سبزیاں، پھل، دالیں، اور بیج استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم والدین کو اپنے بچوں کی غذائی ضروریات کے بارے میں آگاہی حاصل کرنی چاہیے اور صحت کے ماہرین سے مشورہ لینا چاہیے۔

ویگن غذا کے فوائد اور خطرات دونوں ہیں لیکن مناسب تحقیق، احتیاطی تدابیر، اور غذائی منصوبہ بندی کے ذریعے بچوں کو ویگن غذا سے صحت مند رکھا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ویگن بچوں کے والدین کو غذا کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل کرنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کی غذا میں تمام ضروری وٹامنز اور معدنیات شامل ہوں۔

واضح رہے کہ ویگنزم ایک ایسا فلسفہ اور طرز زندگی ہے جو جانوروں کے ساتھ ہمدردی اور ان کے حقوق پر مبنی ہے۔ جس میں جانوروں سے حاصل کردہ کسی بھی چیز کا استعمال نہ کرنا شامل ہے۔ اس میں جانوروں کو بطور خوراک، لباس یا کسی بھی اور مقصد کے لیے استعمال کرنے کی مخالفت کی جاتی ہے۔

دنیا کے بعض حصوں میں ویگنزم عروج پر ہے۔ سنہ 2018 میں دنیا کی تقریباً 3 فیصد آبادی کے سبزی خور ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ امریکا میں سنہ 2023 کے گیلپ سروے میں پایا گیا کہ ایک فیصد آبادی نے کہا کہ وہ سبزی خور غذا کی پیروی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ادھیڑ عمری میں کافی پینے والوں کے لیے اچھی خبر

یہ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ویگنزم اور ویجیٹیرینزم میں فرق ہے۔ سبزی خوری عام طور پر گوشت، مرغی اور مچھلی کو خارج کرتی ہے لیکن سبزی خور غذا کی مخصوص قسم کے لحاظ سے اس میں دیگر جانوروں کی مصنوعات جیسے ڈیری اور انڈے شامل ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف ویگنزم تمام جانوروں کی مصنوعات کو خارج کرتا ہے جن میں گوشت، پولٹری، مچھلی، ڈیری، انڈے اور اکثر دیگر مصنوعات شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ویگن غذا کا بچوں پر منفی اثر ویگن غذاؤں کے نقصانات ویگن غذائیں ویگنزم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ویگن غذاؤں کے نقصانات ویگن غذائیں ویگنزم ماہرین کا کہنا ہے کہ ویگن غذا میں کے بارے میں صحت کے لیے ہو سکتی ہے سکتے ہیں بچوں کی بچوں کے سکتا ہے اور اس غذا کی اور ان ہے اور کی کمی

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ  کے وژنری  اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ  نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز  نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔  ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز  کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔  رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟