سعودی عرب میں آئی ٹی کی بین الاقوامی نمائش لیپ کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
سعودی عرب میں آئی ٹی کی بین الاقوامی نمائش لیپ کا آغاز ہوگیا جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے 18 سو سے زائد کمپنیوں کی جانب سے سٹالز لگائے گئے۔ پاکستانی پویلین کا افتتاح وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کیا۔ نمائش میں ہزاروں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی شائقین شرکت کر رہے ہیں۔
سعودی عرب میں ریاض ایگزیبیشن اینڈ کنونشن سینٹر ملھم میں آئی ٹی کی بین الاقوامی نمائش لیپ کا آغاز ہوگیا جس کا افتتاح سعودی وزیر کمیونیکشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی عبداللہ السواحہ نے کیا۔4 روز تک جاری رہنے والی اس نمائش میں دنیا بھر سے 18 سو سے زائد آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے سٹالز لگائے گئے ہیں۔ان میں پاکستان سے 80 کمپنیوں کی جانب سے سٹالز لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے پویلین کا افتتاح وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کیا اور پاکستانی سٹالز کا جائزہ لیا اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایک خاص مقام رکھتا ہے اور اس کے آئی ٹی پروفیشنلز دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کو منوا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیےسعودی عرب میں جدید ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا ایونٹ ’لیپ 2025‘
انہوں نے کہ اکہ وہ سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے فِن ٹیک، سائبر سکیورٹی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتی ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ڈیجیٹل سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کے لیے سنہری مواقع موجود ہیں۔
شزا فاطمہ خواجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ڈیجیٹل اور اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔
لیپ 2025 کے موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (ڈی ایف ڈی آئی) فورم جلد اسلام آباد میں ہوگا جس میں عالمی سرمایہ کاروں کو شرکت کی دعوت جائے گی۔
شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان عالمی معیار کی ڈیجیٹل سروسز فراہم کر رہا ہے، سرمایہ کاروں کے لیے شاندار مواقع موجود ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’لیپ 2025‘ ٹیکنالوجی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لیپ 2025 ٹیکنالوجی انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ آئی ٹی
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو بھی فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔
آج کاروبار کے پہلے نصف حصے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی کا شکار ہوگیا۔
دوپہر 12 بج کر 5 منٹ پرانڈیکس 170,475.30 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 1,264.14 پوائنٹس یعنی 0.74 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی کشیدگی سے سرمایہ کار محتاط، پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی سے دوچار
مارکیٹ میں فروخت کا رجحان آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں نمایاں رہا۔
حب پاور، اٹک ریفائنری لمیٹڈ، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک جیسے زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز مندی کے ساتھ کاروبار کرتے رہے۔
Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -1253.65 points (-0.73%) at midday trading. Index is at 170,485.8 and volume so far is 113.98 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/DtJJR8AXhS
— Investify Pakistan (@investifypk) July 24, 2026
جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید دباؤ کا شکار رہی تھی، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یعنی 1.54 فیصد کمی کے بعد 171,739.45 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی نے سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے باعث مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت دیکھنے میں آئی۔
عالمی منڈیوں میں بھی مندیعالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعہ کو نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 100.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
گزشتہ روز اس میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور قیمت مختصر طور پر 102 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔
مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایران سے منسلک حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث سامنے آیا، جس سے عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے 60 تجارتی شراکت دار ممالک کی درآمدات پر مزید ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے نے بھی مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
مالیاتی منڈیوں میں یہ توقع بھی زور پکڑ رہی ہے کہ عالمی مرکزی بینک سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتے ہیں۔
سرمایہ کاروں کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ ہفتے ہی شرح سود میں اضافے کا امکان ایک تہائی تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ستمبر میں شرح سود بڑھانے کا امکان تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
ادھر یورپی مرکزی بینک نے اگرچہ اپنی حالیہ میٹنگ میں شرح سود برقرار رکھی، تاہم مالیاتی منڈیوں میں ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔
ایشیائی منڈیوں میں ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں ایک فیصد، جاپان کے نکی انڈیکس میں 2.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آبنائے ہرمز آئل ٹینکر اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بحیرہ احمر پاکستان حبیب بینک حوثی سیمنٹ مانیٹری پالیسی میزان بینک نیشنل بینک