آپریشن ڈیول ہنٹ: بنگلہ دیش نے شیخ حسینہ کے وفاداروں کیخلاف کارروائی شروع کردی، 1300 سے زائد گرفتاریاں
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
آپریشن ڈیول ہنٹ: بنگلہ دیش نے شیخ حسینہ کے وفاداروں کیخلاف کارروائی شروع کردی، 1300 سے زائد گرفتاریاں WhatsAppFacebookTwitter 0 10 February, 2025 سب نیوز
ڈھاکہ (آئی پی ایس )بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے طلبہ کارکنوں پر حملے کے ذمہ دار معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کے حامیوں کے خلاف ڈیول ہنٹ (شیطان کا شکار) کے نام سے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ حکومت نے اس آپریشن کے تحت 1300 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مقامی افراد اور شیخ حسینہ مخالف طلبہ کے گروپوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد آپریشن ڈیول ہنٹ شروع کیا۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں متعلقہ علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے مشترکہ فورسز کے تعاون سے آپریشن ڈیول ہنٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔بنگلادیشی آفیشلز کے مطابق بنگلہ دیش نے ہفتہ سے غازی پور کے علاقے سمیت ملک گیر آپریشن شروع کیا۔ یہ جمعہ کے روز ہونے والے پرتشدد حملے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے تھے۔ یہ حملہ ان دہشت گردوں کی طرف سے کیا گیا جن کا تعلق سقوط آمریت سے تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بنگلہ دیش کے ضلع غازی پور میں جمعہ کی رات کشیدگی دیکھنے کو ملی، طلبا نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے خلاف احتجاج کیا۔ بلڈوزر پروگرام کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں تقریبا 15 طلبا زخمی ہوئے، جو مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے تمام شہریوں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر امن و امان بحال کریں۔ انہوں نے شیخ حسینہ کے خاندان اور عوامی لیگ پارٹی سے منسلک املاک پر حملوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں پر ہونے والے حملے روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کے طلبا سے سوشل میڈیا خطاب کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین نے بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کے آبائی گھر کو مظاہرین نے آگ لگا دی تھی۔ مظاہرین نے معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کے فیملی میوزیم کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
خبرایجنسی کے مطابق طلبا تحریک نے میوزیم کی جانب بلڈوزر مارچ کا اعلان کیا۔ جس کے بعد بنگلہ دیش کی برطرف وزیر اعظم شیخ حسینہ نے ڈھاکہ میں اپنے والد کی رہائش گاہ کو نذر آتش کرنے کے واقعے پر شدید ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک عمارت کو مٹایا جا سکتا ہے، لیکن تاریخ کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمقدمات میں بدنیتی سے بغیر کسی قانونی جواز کے ملوث کیا گیا، بشری بی بی کا تحریری بیان مقدمات میں بدنیتی سے بغیر کسی قانونی جواز کے ملوث کیا گیا، بشری بی بی کا تحریری بیان نکتہ اعتراض پر بات کی اجازت دینے کے معاملے پرپی ٹی آئی کا ایوان میں احتجاج سہ ملکی سیریز: نیوزی لینڈ جنوبی افریقا کو 6 وکٹ سے شکست دیکر فائنل میں پہنچ گیا آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں کو کنٹرول کیا جارہا ہے ،صدر ،وزیر اعظم سمیت پارلیمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں، عمران خان مولانا فضل الرحمان نے قبائلی مسائل کے حل کے لیے اسلام آباد مارچ کی دھمکی دے دی سمندری تحفظ کیلئے مشترکہ کاوشیں ضروری ہیں: نیول چیف بنگلا دیشCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: شیخ حسینہ کے بنگلہ دیش
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔