Jasarat News:
2026-07-24@14:36:44 GMT

لیبیا ساحل کے قریب کشتی حادثہ قابل مذمت ہے،جاوید قصوری

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT

لاہور (وقائع نگارخصوصی)امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے لیبیا میں پاکستانیوں سمیت تارکین وطن کی ایک اور کشتی حادثے پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیبیا کے ساحل کے قریب پاکستانی شہریوں کی ایک اور کشتی حادثے کا شکار ہونا قابل مذمت ہے ہر سال سیکڑوں نوجوان غیر قانونی راستوں سے یورپ جاتے ہوئے لقمہ اجل بن جاتے ہیں جبکہ حکومت اور اس کے تمام متعلقہ ادارے ڈنگی روکنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ہر سال تقریباً 15 ہزار افراد غیر قانونی راستوں سے ملک سے باہر جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلے اس سفر میں کامیابی سے منزل پر پہنچنے کی شرح 50 فی صد تھی لیکن اب یہ شرح کم ہو کر محض 20 فی صد رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے انسانی اسمگلنگ سے متعلق جاری تحقیقات جلد از جلد مکمل کر کے ٹھوس سفارشات پیش کرنے، سہولت کاری میں ملوث وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اہلکاروں کی نشاندہی اور ان کے خلاف سخت کارروائی اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے متعلقہ اداروں کو آپس کے رابطے مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی تھی،گزشتہ ماہ ایف آئی اے کے سربراہ احمد اسحق سمیت 40 سے زائد اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا مگر المیہ یہ ہے کہ چند دکھاوے کے اقدامات کر کے اس معاملے کو سرد خانہ میں ڈال دیا گیا۔ اس سے ہنگامی بنیادوں پر نمٹ آزما ہونے کی ضرور ت ہے۔روزگار کے لیے یورپ جانے کا سلسلہ 70 کی دہائی میں شروع ہوا تھا جو آج اپنے عروج پر پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ گجرات، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، گوجرانوالہ سمیت وسطی پنجاب کے اضلاع سے بڑی تعداد میں لوگ قانونی اور غیر قانونی طریقوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔جہاں مقامی افراد میں دوسروں کی کامیاب زندگی کو دیکھتے ہوئے خطرات مول لینے کی خواہش پیدا ہوئی وہیں کئی ایسے نیٹ ورک اور ایجنٹس بھی منظم ہوئے جو لوگوں کو غیر قانونی طور پر یورپ لے جانے کا ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔آج یہ نیٹ ورک اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ اس کی جڑیں ہر ادارے میں سراہیت کر گئیں ہیں۔دنیا بھر میں تارکین وطن کی اسمگلنگ کا مالی حجم 5.

5 تا 7 ارب امریکی ڈالر سالانہ ہے جو مالدیپ یا مونٹی نیگرو کی مجموعی قومی پیداوار مجموعی جی ڈی پی کے مساوی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ2022ء سے 2023ء تک اسمگلروں نے 223,000 تارکین وطن کو بحیرہ روم کے پار منتقل کیا جو کہ شمالی افریقہ سے اٹلی تک پھیلا اسمگلنگ کا ایک سب سے بڑا اور خطرناک ترین راستہ ہے۔ یہ تعداد اس سے گزشتہ سال کے مقابلے میں 60 فیصد زیادہ تھی۔ 2023ء تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے لیے سب سے خطرناک ترین سال رہا ہے اس سال دنیا بھر میں 8ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے اور یہ تعداد 2022ء کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ تھی۔محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے پاکستان میں تین قوانین ہیں جن میں زیادہ سے زیادہ سزا 14 برس قید ہے۔ ان میں امیگریشن آرڈیننس 1979ء اور اس کے بعد 2018ء میں منظور ہونے والے دو قوانین شامل ہیں۔ریڈ بک میں اس وقت 112 انتہائی مطلوب انسانی اسمگلروں کا ڈیٹا موجود ہے جن میں سے 54 کا تعلق وسطی پنجاب کے اضلاع سے ہے۔ ان میں 16 ملزمان ایسے ہیں جن کے کوائف نئی لسٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔ ریڈ بک میں شامل انسانی اسمگلروں کے نیٹ ورک بہت مضبوط ہیں۔گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات اور منڈی بہاؤالدین انسانی اسمگلنگ کے گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔گزشتہ برس ریڈ بک میں شامل صرف نو انسانی اسمگلروں کو گرفتار کیا جاسکا جن میں سے 6 کا تعلق پنجاب اور تین کا تعلق اسلام آباد سے تھا۔حکومت کی اس کی روک تھام کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گیا اور اس نیٹ ورک کا قلع قمع کرنا ہوگا۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تارکین وطن نیٹ ورک اور اس کے لیے

پڑھیں:

غیر قانونی سگریٹ برآمد، 11 ٹرکوں سے 2 کروڑ 50 لاکھ سگریٹ ضبط

اسلام آباد: ملک میں غیر قانونی سگریٹ برآمد ہونے کے ایک بڑے کیس میں کسٹمز انفورسمنٹ اور موٹروے پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 11 ٹرکوں سے تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سگریٹ قبضے میں لے لیے۔ حکام کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر چار ٹرکوں کے ذریعے غیر قانونی سگریٹ پنجاب منتقل کیے جانے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ بعد ازاں نگرانی کا دائرہ وسیع کیا گیا، جس کے نتیجے میں مزید گاڑیوں کی تلاشی کے دوران مجموعی طور پر 11 ٹرکوں سے بڑی مقدار میں سگریٹ برآمد ہوئے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق یہ کھیپ خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی سے پنجاب کے مختلف شہروں، جن میں لاہور، ملتان اور سرگودھا شامل ہیں، روانہ کی جا رہی تھی۔ حکام کے مطابق ترسیل کے لیے نجی ٹرانسپورٹ استعمال کی گئی۔

برآمد ہونے والے سگریٹ مختلف برانڈز پر مشتمل ہیں۔ متعلقہ ادارے ان برانڈز کے ٹیکس ریکارڈ، قانونی حیثیت، سپلائی چین اور ترسیلی نیٹ ورک کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان مصنوعات پر تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے یا نہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد غیر قانونی تجارت، ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کی روک تھام ہے۔ اس سلسلے میں ضبط شدہ سامان کی جانچ، متعلقہ دستاویزات کی تصدیق اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے غیر قانونی سگریٹ، ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ اس مرحلے پر کسی فرد یا ادارے کے خلاف باضابطہ طور پر جرم ثابت نہیں ہوا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • غیر قانونی سگریٹ برآمد، 11 ٹرکوں سے 2 کروڑ 50 لاکھ سگریٹ ضبط
  • فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
  • کراچی: اورنگی ٹاؤن میں خاتون سے نازیبا حرکت کرنیوالے لڑکے کا صاف اور قابلِ شناخت چہرا سامنے آ گیا
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم