Express News:
2026-07-24@14:51:22 GMT

جہیز لینے کا ذمے دار کون؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT

آنٹی صباحت آج کل بہت پریشان رہنے لگی ہیں، ان کی بیٹی روحی کی شادی سر پر ہے لیکن سفید پوشی کی وجہ سے وہ اپنی بیٹی کا من پسند جہیز لے کر دینے سے قاصر ہیں۔ روحی کہیں ملازمت بھی نہیں کرتی اور والد کی قلیل تنخواہ میں آٹو میٹک واشنگ مشین، بھاری فرنیچر اور شادی کے بہترین لہنگے کی خریداری بھی ممکن نہیں۔

سوشل میڈیا کی چکاچوند سے متاثر ہوکر بہت سی لڑکیاں اپنے والدین کا جینا حرام کردیتی ہیں اور ان سے اپنا من پسند جہیز لینے کا تقاضا کرتی ہیں، جو والدین کےلیے دینا ممکن نہیں ہوتا۔

ہمارے ہاں جہیز کے خلاف بہت سی باتیں کی جاتی ہیں کہ جہیز ایک لعنت ہے اور اسے نہیں لینا چاہیے۔ ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ لڑکے والے جہیز کی بہت لمبی لسٹ تھما دیتے ہیں، موٹر سائیکل، کار، اے سی، الیکڑونکس کا سامان، سب کی سب چیزوں کی مانگ کی جاتی ہے لیکن کوئی اس بات پر نظر نہیں ڈالتا کہ جب کسی لڑکی کی شادی ہورہی ہوتی ہے تو وہ بھی ہر چیز کا تقاضا اپنے گھر والوں سے کرتی ہے کہ اس کا لہنگا بھی بیش قیمت ہو، سلائی مشین ہو، جوسر، بلینڈر، چوپر، آٹو میٹک واشنگ مشین، گھریلو استعمال کی تمام چیزیں، بھاری فرنیچر اور بہترین ملبوسات بھی اس کے ہمراہ کیے جائیں۔

صورتحال یہیں پر بس نہیں ہوتی کیونکہ جب کوئی عورت ساس بنتی ہے تو وہ بھی جہیز کا تقاضا کرتی ہے۔ پوری لسٹ تیار کی جاتی ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ جب ہماری شادی ہوئی تھی تو ہم بھی ٹرک بھر کر جہیز لے کر آئے تھے، ہمارے والدین نے بھی ہماری تمام تر خواہشات پوری کی تھیں لہٰذا اب یہ لڑکی والوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ بھی اپنی بیٹی کو استعمال کی ہر ایک چیز دیں، کیونکہ آخر استعمال تو ان کی بیٹی نے ہی کرنی ہے۔ گویا اس طرح وہ تاریخ کو دہرا رہی ہوتی ہیں۔ انھیں ذرہ برابر بھی احساس نہیں ہوتا کہ لڑکی والے کس مشکل سے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں اور اپنی نازوں پلی بیٹی کو اس مہنگائی کے دور میں بیاہ رہے ہیں۔ بس انھوں نے ٹرک بھر کر جہیز کی ضد کرنی ہے تو کرنی ہے۔

میرا یہ کہنا ہرگز نہیں ہے کہ لڑکے والے جہیز کا تقاضا نہیں کرتے۔ کرتے ہیں بلکہ بڑے دھڑلے سے اپنا حق سمجھ کر کرتے ہیں لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ صرف مرد حضرات ہی جہیز کا تقاضا کرتے ہیں تو یہ ایک غلط سوچ ہے۔ مرد جب شادی کرتا ہے تو اس کے ذہن میں جہیز کا خیال ایک عورت یعنی اس کی ماں ہی ڈالتی ہے اور پھر اسی خیال پر عمل درآمد شروع ہوجاتا ہے۔ مرد بھی یہ بھولنے لگتا ہے کہ کوئی باپ جو اپنی کل کائنات اپنی بیٹی اسے سونپ رہا ہے کیا اس کا یہ فرض بھی ہے کہ وہ اس کا پورا گھر بھی سامان سے بھردے۔ جبکہ ہونا یہ چاہیے کہ لڑکا اپنی ماں کو یہ کہے کہ گھر میں تمام سامان موجود ہے۔ بیڈ، کرسیاں، فرنیچر، پردے، سب کچھ موجود ہے تو لڑکی والوں کو ان چیزوں کےلیے تکلیف دینے کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن وہ بھی جہیز لینے کے معاملے میں اپنی ماں کا ہمنوا بن جاتا ہے جو قابل مذمت ہے۔

ایک مرد یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ گھر میں ضروری اشیا کی چند چیزیں میں خود بھی لے سکتا ہوں، ضروری نہیں کہ نیا فرنیچر لیا جائے، ضروری نہیں کہ جدید الیکٹرونکس کا سامان لیا جائے۔ کچھ بنیادی چیزوں سے بھی باآسانی زندگی گزاری جاسکتی ہے۔ وہ یہ بھی سوچ سکتا ہے کہ جو پیسے ان چیزوں پر ضائع ہی ہونے ہیں ان کو پس انداز کرکے مستقبل میں کوئی بڑی چیز لی جاسکتی ہے، جیسا کہ اپنا گھر۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں پر پیسہ لگانے کے بجائے ایک بڑے مقصد کےلیے پیسہ بچایا جاسکتا ہے۔

یہاں پر ہمیں معاشرہ دہرے معیار کا حامل بھی نظر آتا ہے۔ ایک لڑکا جو اپنی شادی پر جہیز لیتا ہے جب انھیں اپنی بہن کی شادی پر ٹکر کے سمدھی مل جائیں تو پھر وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگتے ہیں۔ یعنی جب لڑکی سے جہیز لینا ہو تو طرح طرح کے جواز بنا دیے جاتے ہیں، طرح طرح کی اسلامی دلیلیں دی جاتی ہیں لیکن جب اپنی بہن بیٹی پر بات آتی ہے تو ’جہیز ایک لعنت ہے‘ کا نعرہ یاد آنے لگتا ہے۔

ہم نے مان لیا کہ جہیز ایک لعنت ہے، معاشرتی ناسور ہے لیکن اسے پھیلانےمیں ہم سبھی کا ہاتھ ہے۔ چاہے وہ شادی کے انتظار میں بیٹھی ہوئی لڑکیاں ہوں یا بیٹے کی شادی کی آس میں اپنا پورا گھر بھر دینے کی خواہش مند مائیں یا ماؤں کی باتوں میں آکر جہیز لینے کے خواہش مند لڑکے۔ بدلنا ہم سب کو چاہیے۔ یاد رکھیں تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ ہم ایک سائیڈ پر الزام لگا کر خود کو بے قصور قرار نہیں دے سکتے۔

ہمیں اجتماعی رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے لیے انفرادی قدم اٹھانا اور پھر اس انفرادی قدم کی حوصلہ افزائی کرنا اہم ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جہیز لینے کا تقاضا ہے لیکن جہیز کا کی شادی وہ بھی

پڑھیں:

ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری

مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔

اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔

میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔

اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔

میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔

ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔

بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔

اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔

اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟

یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔

اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔

ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔

وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • زندگی کا مقصد
  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی